| 81430 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
سوال یہ ہے کہ میرے گھر والے شادی کے لیے راضی تھے وہ لوگ شادی کی بات کرنے لڑکی کے گھر گئے بھی اور وہاں مہینہ بھی فکس کر دیا،بعدکچھ گڑبڑ پیدا ہوئی جو کہ کسی غیر کی طرف سے تھی جس کا شادی سے کوئی تعلق نہیں۔ اب والدراضی ہیں ،لیکن والدہ راضی نہیں، یہ دراڑ کسی تیسرے بندے کی طرف سے آئی ہے اور رشتے کی بات بھی عام ہو چکی ہے ،تین چار مہینے بعد شادی ہے، دولہے کا موقف ہے کہ میں شادی صرف وہی نبھا سکتا ہوں اور کسی جگہ میرا دل نبھا نہیں سکتا۔اب اس صورت مسئلہ میں کیا کرنا چاہیے؟ شریعت کی روشنی میں وسعت سے بیان فرما دیں تاکہ شریعت کی بھی، والدین کی بھی اور شادی کرنے والے کے بھی مرضی اور موقف کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب والد راضی ہیں تو اس جگہ نکاح کرنے میں حرج نہیں ، لیکن والدہ کی ناراضگی بعد میں کسی خاندانی پیچیدگی کا سبب بن سکتی ہے ،لہذا اگر والدہ کی ناراضگی کسی معقول یا شرعی وجہ کے بغیر ہو،لیکن والدہ کو راضی کرنا ممکن نہ ہو تو اس جگہ شادی پر اصرار مناسب نہیں، البتہ اگر ناراضگی ناجائز طور پر ہوتوان کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۳ ربیع الاول۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


