03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پسندیدہ رشتہ پروالدہ راضی نہ ہوتو کیا کیا جائے؟
81430نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

سوال یہ ہے کہ میرے گھر والے شادی کے لیے راضی تھے وہ لوگ شادی کی بات کرنے لڑکی کے گھر گئے بھی اور وہاں مہینہ بھی فکس کر دیا،بعدکچھ گڑبڑ پیدا ہوئی جو کہ کسی غیر کی طرف سے تھی جس کا شادی سے کوئی تعلق نہیں۔ اب والدراضی ہیں ،لیکن والدہ راضی نہیں، یہ دراڑ کسی تیسرے بندے کی طرف سے آئی ہے اور رشتے کی بات بھی عام ہو چکی ہے ،تین چار مہینے بعد شادی ہے، دولہے کا موقف ہے کہ میں شادی صرف وہی نبھا سکتا ہوں اور کسی جگہ میرا دل نبھا نہیں سکتا۔اب اس صورت مسئلہ میں کیا کرنا چاہیے؟ شریعت کی روشنی میں وسعت سے بیان فرما دیں تاکہ شریعت کی بھی، والدین کی بھی اور شادی کرنے والے کے بھی مرضی اور موقف کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب والد راضی ہیں تو اس جگہ نکاح کرنے میں حرج نہیں ، لیکن والدہ کی ناراضگی بعد میں کسی خاندانی پیچیدگی کا سبب بن سکتی ہے ،لہذا اگر والدہ کی ناراضگی کسی معقول یا شرعی وجہ کے بغیر ہو،لیکن والدہ کو راضی کرنا ممکن نہ ہو تو اس جگہ شادی پر اصرار مناسب نہیں، البتہ اگر ناراضگی ناجائز طور پر ہوتوان کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۳ ربیع الاول۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب