03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مسلم ممالک سے در آمد گوشت کا حکم
81461جائز و ناجائزامور کا بیانکھانے پینے کے مسائل

سوال

ہم قطر میں رہتے ہیں اور یہاں مرغی کا گوشت برازیل سے آتا ہے جو کہ ایک غیر مسلم ملک ہے حالانکہ اس پر حلال لکھا ہوتا ہے، اس گوشت کا کھانا کیسا ہے ؟اسی طرح کچھ گوشت ترکی ،عمان اور کچھ اور اسلامی ممالک سے آ تا ہے اس گوشت کا کھانا کیسا ہے؟ اسی طرح یہاں کے آیف سی،میک ڈونلڈ ،پیزاہٹ کھانا کیسا ہے؟ اس کے علاوہ یہاں موجود پاکستانی ہوٹلوں میں کھانا کیسا ہے؟ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کوئی اسلامی مملکت ماہر ومستنداہل علم کے مشاورت وتعاون سے جائزہ لے کر حلال ہونے کی تصدیق جاری کرے تو عوام کے لیے اس پر اعتماد کرنا کافی ہے،مزید تحقیق کی ضرورت نہیں،معہذامشکوک صورت حال میں احتیاط بہتر ہے۔

کے، ایف سی اور میکڈونلڈ کے گوشت مصنوعات کے کھانے کے بارے میں یہ تفصیل ہے جو گوشت غیر مسلم ممالک سے در  آمد کرنے کا یقین ہو تو اس سے تو احترراز کیا جائے اور جس کے بارے میں معلوم نہ  تو اس سے احتراز کرنا بہتر ہے، اور جس کے بارے میں مسلم ممالک سے در آمد کرنے یا مقامی طور پر تیاری کا علم ہو تو اس کے استعمال کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ کسی اور حرام یا ناجائز چیز کے شامل ہونے کا یقین نہ ہوجائے، البتہ بہتر بہرحال یہی ہے کہ ایسی غیر مسلم ممالک کے ہوٹلوں میں کھانے سے حتی الامکان احتراز کیا جائے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 298):

(لا) تحل (ذبيحة) غير كتابي                                                                                                                                  

 (قوله لا تحل ذبيحة غير كتابي) وكذا الدروز كما صرح به الحصني من الشافعية، حتى قال: لا تحل القريشة المعمولة من ذبائحهم وقواعدنا توافقه، إذ ليس لهم كتاب منزل ولا يؤمنون بنبي مرسل. والكتابي من يؤمن بنبي ويقر بكتاب رملي.

أقول: وفي بلاد الدروز كثير من النصارى، فإذا جيء بالقريشة أو الجبن من بلادهم لا يحكم بعدم الحل ما لم يعلم أنها معمولة بإنفحة ذبيحة درزي، وإلا فقد تعمل بغير إنفحة، وقد يذبح الذبيحة نصراني تأمل، وسيأتي عن المصنف آخر كتاب الصيد أن العلم بكون الذابح أهلا للذكاة ليس بشرط،

ویقول العبد  الناقل :ولا یخفی علیک ان اکثر اھل الکتاب فی ھذا الزمان لا یلتزمون  بشروط الذکاۃ التی ھی واجبۃ فی العمل،   علی ان معظمھم لیسوا علی شیء من کتابھم  فلا یقرون بکتاب ولایؤمنون بنبی۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۵ ربیع الاول۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب