| 81488 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص جس کے والد صاحب فوت ہو چکے ہیں اوروالدہ زندہ ہیں۔ ان کے کچھ بھائی اوربہنیں ہیں، یہ شخص والده کی جائیداد میں حصہ حاصل کرنے کے لیے والده کواذیت دیتاہے اور تنگ کرتا ہے، یہاں تک کہ والدہ اپنےتمام بچوں سمیت گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد کچھ لوگ ان کے مابین فیصلہ کر کے واپس لے آتے ہیں،لیکن پھر بھی وہ شخص اپنی والدہ کو تنگ کرتا ہے یہاں تک کہ ان پرگولیاں بھی چلاتا ہے،اس کے بعد وہ کچھ لوگوں کو اجرت دیتا ہے اور اپنی والدہ کی شناخت کرا کےقتل کروادیتا ہے۔ اس کے اس عمل میں خاندان کے کچھ لوگ بھی ملوث تھےاور اب ان کے خلاف گواہ بھی موجود ہیں کہ ہاں اسی نے ہی یہ اجرت دی تھی (مطلب ان کے بیٹے نے)۔
اب اگر یہ شخص اپنے والد صاحب کی جائیداد میں یا والدہ کی جائیداد میں تصرف کرتا ہے اور اس کو آگے بیچتا ہے اوراپنے باقی بہن بھائیوں سے پوچھتا نہیں اور نہ ان کے علم میں ہوتاہےتو کیا اس کا یہ تصرف کرنا ٹھیک ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میراث میں تصرف کرکے ورثہ کو حصہ نہ دینا اور انہیں محروم رکھنا گناہ کا کام اور ناجائز ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر دوسروں کامال ناحق کھانے سے منع فرمایا ہے،میت کے انتقال کےبعد،اس کے ذمے قرض کی ادائیگی اورتہائی مال سے اس کی وصیت کے نفاذ کے بعد بچنے والا مال اس کے شرعی وارثوں کا حق بن جاتا ہے ،لہذا اگر کوئی وارث اپنے حق سے زیادہ لیتا ہےیا کسی وارث کو محروم کر دیتا ہےیا میراث کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں سےہٹ کر تقسیم کرتاہے تو یہ تمام کام گناہ ہیں اور قرآنِ کریم میں ایسے لوگوں کو جہنم کی وعیدیں سنائی گئی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
}إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا} [النساء: 9]
ترجمہ:"یقین رکھو کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں،اور جلد ہی انہیں دہکتی
ہوئی آ گ میں داخل ہونا ہو گا۔"
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
}لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [البقرة: 188]
" آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقوں سے نہ کھاؤ۔"
تیسری جگہ ارشاد فرمایا:
}وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَمًّا } [الفجر: 19]
"اور میراث کا مال سمیٹ سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔"
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں میراث کے ذیلی احکام میں وارثوں کےحصوں کو جس تفصیل سے واضح طور پر بیان کیا ہے اس تفصیل سے کسی اور حکم کے ذیلی احکام بہت کم بیان فرمائے ہیں ،اس سے میراث کو انہی مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کرنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
}لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا } [النساء: 7[
" مردوں کے لیےبھی اس مال میں حصہ ہے جووالدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،اورعورتوں کے لیےبھی اس مال میں حصہ ہے جووالدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،چاہے وہ (ترکہ) تھوڑا ہو یا زیادہ،یہ حصہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے )مقرر (اور فرض قرار کیا گیا)ہے۔"
ابن ماجہ (2/902)میں حضر ت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
" عن انس قال: قال رسول اللہ ﷺ: من فر من میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ۔ "
"حضوراقدس ﷺ نے فرمایا :جس نے کسی وارث کو اس کا حصہ میراث دینے سے راہ فرار اختیار کی ، اللہ تعالیٰ
قیامت کے دن جنت سے اس کے حصے کو روکیں گے۔"
حوالہ جات
..
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
24/ربیع الاول1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


