03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ کی زندگی میں وفات پانے والے والدہ کی میراث سے محروم رہیں گے
81445ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

 ایک گھرجوکہ والدنے والدہ کے نام کیاتھا اورقبضہ بھی دیدیاتھا، والدکاانتقال ہوگیا اوراب والدہ کابھی انتقال ہوگیااوردو بھائیوں کا انتقال والدہ کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا،اب آیا باقی ورثہ کے ساتھ ان دو مرحوم بھائیوں کا حصہ بھی ہوگا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں والدہ کی زندگی میں وفات پانے والے دونوں بھائی والدہ کی میراث سے محروم رہیں گےاورمیراث صرف ان ورثہ کو ملے گی جو والدہ کی وفات کے وقت زندہ تھے ۔

حوالہ جات

’’وقد ذکر الإمام أبوبکر جصاص الرازي رحمه اللّٰه في أحکام القرآن، والعلامة العیني في عمدة القاري: الإجماع علی أن الحفید لایرث مع الابن‘‘. (تکملة فتح الملهم ۲/۱۸)

’’ولو کان مدار الإرث علی الیتم والفقر والحاجة لما ورث أحد من الأقرباء والأغنیاء، وذهب المیراث کله إلی الیتامیٰ والمساکین … وأن معیار الإرث لیس هو القرابة المحضة ولا الیُتم والمسکنة، وإنما هو الأقربیة إلی المیت‘‘. (تکملة فتح الملهم ۲/۱۷-۱۸)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

25/3/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب