| 81441 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
جناب میر انام ...... ہے ،میر ا بیٹا جس کانام زید (فرضی نام ) ہے ،اس نے اپنی بیوی کو تقریبا ڈھائی مہینے پہلے طلاق دی ہے ،میں اور بھائیوں نے پوچھا تو اس نے تصدیق کی ہے ،اور کہا کہ دس بارہ دن میں باری باری تین دفعہ طلاقیں دی ہیں ، پھر بیوی سے پوچھا تو اس نے کہا کہ مجھے شوہر نے کوئی طلاق نہیں دی ، وہ ابھی تک اس پر قائم ہے اور زید اس بات پر قائم ہے کہ اس نے تین طلاقیں دی ہیں ، براہ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں فتوی دیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
منکوحہ بیوی کو طلاق دینے کااختیار اللہ تعالی نے شوہر کو دیا ہے ، اس کے طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ،طلاق کا واقع ہونا بیوی کی رضا یا سننے پر موقوف نہیں ہے ، سناکر دے تب بھی واقع ہوجاتی ہے ،اس کو سنائے بغیر طلاق دی جائے وہ بھی واقع ہوجاتی ہے ، اسی طرح لوگوں کے سامنے طلاق کے اقرار سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا صورت مسئولہ میں ......(زید) نامی شخص کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ، اور دونوں کے آپس میں نکاح ختم ہوگیا اور ایک دوسرے پر حرام ہوگئے ،حلالہ شرعیہ کے بغیر آپس میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ۔
اور حلالہ شرعیہ کی صورت یہ ہے ﴿ عدت پوری ہونے کےبعد عورت کاکسی دوسری جگہ نکاح ہوجائے، پھر اس کے بعد شوہراس کے ساتھ ہمبستری کرے ، اس کے بعد شوہر اس کو طلاق دیدے یا شوہر کا انتقال ہوجائے، پھردوسرے شوہر کی طرف سے طلاق یا وفات کی عدت گذار کر آپس کی رضامندی سےپہلے شوہر سے نکاح ہو﴾
حوالہ جات
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]
صحيح البخاري ـ م م (7/ 0)
وقال الليث حدثني نافع قال كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال لو طلقت مرة أو مرتين فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك
ٰجب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جاتا کہ جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقین دیں ہوں تو فرماتے کہ کاش وہ ایک یا دوطلاقیں دیتا ،اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسا کرنے کاحکم دیاتھا ، ، لہذا اگر اس نے تین طلاقیں دیں تو اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی ، یہاں تک وہ اس کے علاوہ کسی سے نکاح کرلے۔ یعنی حلالہ شرعیہ کے بعد ۔
سنن أبي داود (2/ 242)
حدثنا أحمد بن عمروبن السرح ، ثنا ابن وهب ، عن عياض بن عبد الله الفهرى وغيره ، عن ابن شهاب ، عن سهل بن سعد ، في هذا الخبر ، قال : فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأنفذه رسول الله صلى الله عليه وسلم ،
حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین طلاقیں دیدیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کو نافذ فرمایا ۔
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کر اچی
۲۵ ربیع الاول ١۴۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


