03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایسی فیکٹری کی وراثت کا حکم جو والدکےتعلقات کی بنیاد پر قرض لےکربنائی گئی ہو
81448میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے اپنے والد کی زندگی میں کاروبار کا آغاز کیا،جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ :

والد صاحب کی سربراہی میں ان کے احباب سے ایک معقول رقم بطورِ قرض لی گئی اور فیکٹری کی شکل میں کاروبار کا آغاز ہوا،جس میں والد محترم کا عمل دخل صرف سرپرستی اور مشاورت کی حد تک رہا،کاروبار آگے بڑھانے اور اسے ترقی دینے میں تمام کردار صرف زید ہی کا تھا،یہاں تک کہ والد صاحب کی زندگی میں ہی فیکٹری کی ملکیت زید کے پاس رہی،قرض لی گئی تمام رقم کی ادائیگی بھی زید ہی نے کی،فیکٹری کے تمام تر معاملات کی نگرانی اکیلا زید ہی کرتا رہا،اس کے بہن بھائیوں کی اس کاروبار میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہ رہی۔

اب سوال یہ ہے کہ والد صاحب کی وفات کے بعد دیگر ورثا یعنی زید کے بہن بھائیوں کو اس فیکٹری میں حصہ ملے گا یا نہیں؟قرآن وسنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔

تنقیح:سائل سے فون پر مزید وضاحت طلب کرنے سے معلوم ہوا کہ عملی طور پر فیکٹری میں والد کا کوئی عمل دخل نہیں تھا،کاغذات وغیرہ سب بیٹے کے نام پر تھے،فیکٹری بھی بیٹے کے نام پر تھی،سارے معاملات بیٹا یعنی زید خود دیکھتا تھا،فیکٹری لاہور میں تھی اور بیٹا بھی وہی اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر تھا،جبکہ والد صاحب عام طور پر ایبٹ آباد ہوتے تھے،کبھی کچھ دن کے لئے لاہور بیٹے کے پاس بھی آجایا کرتے تھے،یعنی بیٹا والد کے ساتھ رہائش پذیر نہیں تھا،بلکہ والد  اس کے پاس رہنے کے لئے آیا کرتے تھے،فیکٹری کی آمدن زید لیا کرتا تھا،البتہ بوقت ضرورت وہ والد کے ساتھ تعاون کیا کرتا تھا،صرف ابتداء میں بیٹے کو ذریعہ معاش فراہم کرنے کے لئے انہوں نے اپنے دوستوں سے اپنے تعلق کی بنیاد پر اسے قرض دلوایا تھا،بقیہ اس کے علاوہ ان کا فیکٹری سے کوئی سروکار نہیں تھا،صرف بحیثیت والد بیٹا بوقت ضرورت ان سے مشورہ کرلیا کرتا تھا۔

استفتاء کا مقصد صرف دلی اطمئنان ہے،تاکہ دیگر ورثا اس حوالے سے کسی قسم کے شبہات کا شکار نہ ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل حقیقت پر مبنی ہے تو مذکورہ فیکٹری زید کی ملکیت ہے،لہذا اس میں دیگر ورثا کا کوئی حق نہیں ہے۔

حوالہ جات

"شرح المجلة لخالد الاتاسی" (4/ 320):

"قال فی الفتاوی الخیریة :قول علمائنا اب وابن یکتسبان فی صنعة واحدة ولم یکن لھما شیء ثم اجتمع لھما قال یکون کلہ للاب اذا کان الابن فی عیالہ،ھو مشروط کما یعلم من عبارتھم بشروط منھا اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لھماوکون الابن فی عیال ابیہ فاذا عدم واحد منھا لایکون کسب الابن للاب.......

اقول: استفید من کون مدار الحکم ثبوت کون الابن معینا لابیہ انہ لیس المراد باتحاد الصنعة اتحادھا نوعا بل المراد ان یعملا بھا یدا واحدة ویکون الکسب الحاصل غیر متمیز حتی لوکان کل منھما حداد ا مثلا الا ان کلا منھما یعمل فی دکان لہ علی حدة وامر الابن فی عملہ لیس عائدا لابیہ،لایکون معینا لہ وان کان فی عیالہ بل یکون کسبہ لہ خاصة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

25/ربیع الاول 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب