| 81475 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
میں نے غصے میں اپنی بیوی کی طلاق معلق کر دی کہ میری اجازت کے بغیر اپنی بہن کے یہاں جائے تو تجھے سارے طلاق۔ پھر وہ اپنے گھر گئی، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہاں بنا پو چھے ہی نہ چلی جائے اور مجھے مسئلے کا علم نہیں تھا، اس لئے میں نے اللہ کو گواہ بنایا اور اسکے بعد ایک دوست کو گواہ بنایا کہ میری طرف سے میری بیوی کو اجازت ہے ،لہذا مجھے کوئی دقت نہیں اب، کیونکہ میں طلاق نہیں چاہتا تھا، اس کے دو دن بعد وہ اپنی بہن کے پاس چلی گئی اور عدت گزارنے لگی۔ مجھ سے کسی نے کوئی بات نہیں کی اور میری اجازت کا بھی سوا اللہ کے اور اس شخص کے اس وقت تک کسی کو علم نہیں تھا آپ واضح کریں کہ وہ اجازت معتبر ہوئی یا نہیں؟ حالانکہ میرے پاس ثبوت ہے ،اس کے وہاں سے جانے سے پہلے اجازت کا۔ مہربانی کرکے بتائیں طلاق ہو گئی؟یا باقی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اپنی اجازت دینے کے ساتھ طلاق کی تعلیق کے بعد بیوی کے علم کے بغیر اس کو اجازت دینا شرعا معتبر نہیں اورسارےطلاق کا حاصل تین طلاق ہی سمجھا جاتا ہےلہذا تین طلاقیں واقع چکی ہیں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 439):
وإذا قال لها: إن خرجت من هذه الدار من غير إذني فأنت طالق فأذن لها بالعربية وهي لا تعرف العربية فخرجت تطلق ونظير هذا ما لو أذن لها وهي نائمة أو غائبة هكذا ذكر في النوازل.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 281):
يقع بأنت طالق كل التطليقة واحدة، وكل تطليقة ثلاث،
(قوله يقع بأنت طالق إلخ) لأن كلا إذا أضيفت إلى معرف أفادت عموم الأجزاء، وأجزاء الطلقة لا تزيد على طلقة، وإذا أضيفت إلى منكر أفادت عموم الأفراد. اهـ. ح ولذا كان قولك كل الرمان مأكول كاذبا لأن قشره لا يؤكل، بخلاف كل رمان بالتنكير، وهذا عند الخلو عن القرائن كما حررناه في باب المسح على الخفين. [تنبيه] ذكر في الذخيرة: لو قال: كل الطلاق فواحدة وهكذا نقل عنها في البحر، لكن في مختارات النوازل أنه يقع ثلاث. قلت: وهو الذي يظهر لأن الطلاق مصدر يحتمل الثلاث بخلاف الطلقة على أنه ذكر في الذخيرة أيضا أنت طالق الطلاق كله فهو ثلاث، ولا فرق يظهر بين كل الطلاق والطلاق كله تأمل.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۸ ربیع الاول۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


