| 81455 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرانام .......... ہے اورمیری ایک غیر شادی شدہ بہن فہمیدہ کا انتقال ہوگیاہےاوراس کےوارارث والدہ، ایک بھائی اورہم دو بہنیں ہیں،فہمیدہ نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا ہے، جو اٹھالیس لاکھ میں فروخت ہوا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ یہ رقم اب مذکورہ وارثوں میں کیسے تقسیم ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط اخراجات ،قرض اوروصیت (اگرکی ہو)کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد اگر مرحومہ کےانتقال کے وقت صرف یہی لوگ زندہ ہوں جوسوال میں مذکورہیں توکل منقولہ ،غیرمنقولہ ترکہ میں سے اس کی ماں کو %16.66(466666.625وپے)،بھائی کو %41.66(1166666.625) ہربہن کو %20.83 (583333.312روپے) دیئے جائیں۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی :
وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آَبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا [النساء/11]
وفی البحر الرائق (8/ 567)
والعصبة أربعة أصناف: عصبة بنفسه وهو جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده الأقرب.
السراجی فی المیراث(ص:۳۶)
العصبات النسبیۃ ثلاثۃ ۔۔۔۔۔۔فکل ذکر لا تدخل فی نسبتہ الی المیت انثی ، وھم ٲربعۃ : جزء المیت ، واصلہ وجزء ابیہ، اجزء جدہ، الأقرب فالاقرب .
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
28/3/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


