03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مہر کے زیورات شوہر کو دینے کے بعد واپس مانگنے کا حکم
81477نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

میں نے 2016 میں نکاح کے وقت اپنی بیوی کو پانچ (5) تولہ سونا زیورات کی شکل میں دیدیا تھا جس کی قیمت اس وقت کے حساب سے 180,000 تھی۔ اس کے بعد 2020ء میں میری بیوی نے کہا یہ زیورات بیچ دو، میں نے کہا میں یہ بعد میں ادا نہیں کرسکتا، لیکن اس نے کہا میں اپنا حقِ مہر آپ کو معاف کرتی ہوں، آپ سے کبھی بھی نہیں مانگوں گی۔ جب زیورات بیچ دئیے تو اس وقت اس کی قیمت 400,000 لاکھ تھی۔ 2023ء میں اب کورٹ کے ذریعے مجھ سے حقِ مہر کا تذکرہ کر رہی ہے، اِس وقت پانچ تولہ زیور کی قیمت 1,250,000 ہے۔

آپ راہنمائی فرمائیں کہ حقِ مہر جو پانچ تولہ سونا تھا وہ 2016ء کے حساب سے دینا ہوگا، یا 2020ء کے حساب سے دینا ہوگا یا موجودہ جو قیمت بنتی ہے اس کے حساب سے دینا ہوگا؟ میں نے جو سونا دیا تھا وہ 18 کیرٹ کا تھا، ابھی وہ لوگ مجھ سے 22 کیرٹ کا تقاضا کر رہے ہیں۔ شرعا کیا حکم ہے؟

اس وقت زیورات فروخت کر کے اس رقم سے میں نے فلیٹ لیا تھا، اس کی قیمت 1,600,000 تھی، جس میں 1,200,000 میرے تھے اور 400,000 اس کے زیورات کے تھے جو کہ معاف بھی کیے تھے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ کی اہلیہ نے واقعتاً اپنے مہر کا پانچ تولہ سونا آپ کو بغیر عوض کے ملکیتاً دیا تھا تو وہ اس کی ملکیت سے نکل کر آپ کی ملکیت بن چکا تھا، اب اس کے لیے سونے یا اس کی قیمت کا مطالبہ جائز نہیں۔ لیکن اگر اس نے سونا بغیر عوض ملکیتاً نہیں دیا تھا، بلکہ بطورِ قرض دیا تھا تو اب آپ کے ذمے اسی معیار اور کیرٹ کا پانچ تولہ سونا واپس کرنا لازم ہوگا جس معیار اور کیرٹ کا سونا اس نے دیا تھا، اس سے بہتر سونے کا مطالبہ جائز نہیں۔ اگر آپ دونوں میاں بیوی سونے کے بجائے قیمت لینے دینے پر راضی ہوتے ہیں تو قیمت اسی وقت کی معتبر ہوگی جس وقت قیمت کی ادائیگی ہوگی، پچھلے کسی وقت کی قیمت کا اعتبار نہیں ہوگا۔  

اگر آپ دونوں میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہو، یعنی آپ کی بیوی آپ کو سونا مفت دینے اور مالک بنانے کا انکار کرتی ہو، جبکہ آپ اس کا دعویٰ کر رہے ہیں تو شرعا آپ کے ذمے اپنے اس دعویٰ پر دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں بطورِ گواہ پیش کرنا لازم ہے، اگر آپ گواہ پیش کریں تو شرعا آپ کی بات ثابت ہوگی، لیکن اگر آپ گواہ پیش نہ کر سکے تو آپ کی اہلیہ سے قسم کا مطالبہ ہوگا، اگر وہ اپنی بات پر قسم اٹھالے تو اس کی بات ثابت سمجھی جائے گی، اور اگر وہ قسم اٹھانے سے انکار کرے تو پھر آپ کی بات درست مانی جائے گی۔

حوالہ جات

تنقيح الفتاوى الحامدية (4/ 425):

دفع إلى ابنه مالًا فأراد أخذه صدق أنه دفعه قرضًا؛ لأنه مملك.  دفع إليه دراهم فقال له: أنفقها، ففعل فهو قرض، كما لو قال اصرفها إلى حوائجك. ولو دفع إليه ثوبا وقال: اكتس به ففعل يكون هبة ؛ لأن قرض الثوب باطل، لسان الحكام في هبة المريض وغيره.  

دفع إلى غيره دراهم فأنفقها، وقال صاحب الدراهم: أقرضتك، وقال القابض: لا، بل وهبتني، كان القول قول صاحب الدراهم، من نكاح الخانية.  

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       28/ربیع الاول/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب