| 81510 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میری شادی کو تقریبا 8 ماہ ہو چکے تھے۔ میرے اپنےشوہر سے ان کے بھائی اور بھائی کے بچوں کی وجہ سے کافی وقت سے لڑائی جھگڑے چل رہے تھے۔ میں ان کے بھائی اور بھائی کے بچوں کو ساتھ نہیں رکھنا چاہتی تھی اور میرے شوہر ان کو الگ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ مجھے شادی سے پہلے بتا دیا گیا تھا کہ یہ لوگ ساتھ رہیں گے، لیکن کچھ عرصے بعد ہماری لڑائی شروع ہوگئی، کیونکہ وہ بڑے تھے ( بیٹی9 کلاس میں اور بیٹا 6 کلاس میں تھا) معاملات کافی بگڑ گئے۔ اس کے گھر والوں نے یہ کہہ دیا کہ اگر ان کو چھوڑا تو ہم سے تمہارا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ تو میرے والد صاحب نے میرے شوہر سے بات کی کہ بچوں کو اپنے بڑے بھائی کے گھر بھیج دو (جو کا اپنا گھر ہے، ہم لوگ کرائے کے گھر میں رہتے تھے) لیکن میرے شوہر راضی نہیں ہوئے ، پھر والد صاحب نے میرے کہنے پر اس کو یہ مشورہ دیا کہ اسی گھر میں پا رٹیشن کر دو ،تاکہ دونوں علیحدہ علیحدہ رہ سکیں، لیکن میرا شوہر اس بات پر بھی راضی نہیں ہوا کہ میں دوسروں کے گھر میں پیسہ کیوں لگاؤں؟ میرے والد اپنے پیسوں سے کام کروانے پر بھی راضی ہو گئے۔لیکن شوہر راضی نہیں ہوا، بالآخر میرے والد نے میرے کہنے پر اس کو کہاکہ اگر آپ بھائی اور بچوں کو نہیں چھوڑ سکتے تو مجھے چھوڑ دو۔ اوریہ بات میرے شوہر کے بڑوں کی موجودگی میں ہوئی تھی۔وہ لوگ مجھے چھوڑنے کے لئے رضامند ہو گئے اور دو دن بعد طلاق کے پیپر لے کر آگئے۔
پیپرز میں یہ لکھا تھا کے میرے شوہر نے میری خواہش پر مجھے تین طلاق دی۔ ہم لوگ خلع چاہتے تھے، کیونکہ میں نے یہ سنا تھا کہ خلع کے بعد دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔ میرے والد نے میرے شوہر سے کہا تھا کہ آپ لکھ کر دے دو کہ میں نے طلاق دے دی، لیکن میرے شوہر کے بڑے بھائی نے کہا کہ میں اسٹامپ پیپرز لکھوا کر لے آؤں گا۔ جب پیپر ہمیں ملے تو اس پر لکھا تھا کہ میں تین طلاق دیتا ہوں،میرے شوہر ، میرے والد اور میرے شوہر کے بڑے بھائی نے کاغذات پڑھے تھے، جبکہ دونوں خاندانوں کے درمیان یہ بات ہوئی تھی کہ میں خلع لے رہی ہو، میرے شوہر نے تین طلاق لکھنے کا نہیں کہاتھا، بلکہ یہ منشی نے لکھ دی تھیں۔ نیز میرے شوہر نے زبانی بھی طلاق نہیں دی اور نہ ہی وہ مجھے طلاق دینا چاہتے تھے، لیکن وہ اپنے بھائی کے بچوں کو کسی صورت نہیں چھوڑ سکتے تھے، کیونکہ وہ بہن کے دباؤ کی وجہ سے مجبور تھے۔سوال کے ساتھ اسٹامپ پیپر منسلک ہے، سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں کتنی طلاق واقع ہوئی ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل اور منسلکہ اسٹامپ پیپر میں تین طلاق کی تصریح مذکور ہے اور شوہر کے اس پر دستخط بھی ہیں، لہذا شروع میں خلع کی بات کرنے سے تین طلاق کے وقوع پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، بلکہ شوہر کے بغیر کسی جبرواکراہ کے تین طلاق کے کاغذات پر دستخط کرنے سے آپ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اور فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے، اب رجوع یا دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا۔البتہ اگر عورت سابقہ شوہر کی عدت گزارنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس کے ساتھ ہمبستری بھی کرے، پھر وہ شخص فوت ہو جائے یا اپنی رضامندی سے طلاق دے دے تو اس شخص کی عدت مکمل کرنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن
عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم:
أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
28/ربیع الاول 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


