03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہبہ کیاہوامکان ترکہ میں شامل ہوگایانہیں؟
81495میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مارے والدصاحب کاانتقال ہوگیاہے،کئی سال پہلے والدصاحب نے مکان ہم تین بھائیوں کے نام کردیاتھا،ہماری ایک بہن،بہنوئی اوربہن کے دولڑکے جوکہ شروع سے ہمارے ساتھ رہتے ہیں،مکان نام کرانے کےلئے ہمارے پاس پیسے نہیں تھے،بہن اوربہنوئی نے اپنافرنیچرسیل کرکے ہمیں 44000روپے دئیے،2007 میں بہن کاانتقال ہوگیاہے اور2019 میں بہنوئی کاانتقال ہوگیا،اب تینوں بھائی مل کریہ مکان فروخت کررہے ہیں،یہ مکان 80گزکاہے،مکان 70لاکھ کے قریب میں سیل ہوگا،معلوم یہ کرناہے کہ بہن کے لڑکوں کاحصہ اس میں حصہ بنتاہے یانہیں؟اگربنتاہےتوکتنا ہوگا؟

واضح رہے کہ تینوں بھائیوں کاکھاناپیناالگ الگ ہے۔

تنقیح:سائل نے بتایاہے مکان دومنزلہ ہے،پانچ کمروں پرمشتمل ہے،تینوں بھائی اس مکان میں الگ الگ رہائش پذیرہیں،تینوں کے کچن اورواش رومز وغیرہ الگ الگ ہیں،مکان قابل تقسیم ہے،والدنے تقسیم کرکے نہیں دیاہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم والد صاحب  کااپنی زندگی میں یہ کہناکہ یہ مکان میرےتینوں بیٹوں کا ہے،شرعی لحاظ سے ہبہ ہے،جس میں تفصیل یہ ہے کہ اگروالدمرحوم نے یہ مکان ہربیٹے کواس کاحصہ الگ کرکے دیدیاتھااورمالکانہ حقوق بھی دیدئیے تھے تواس صورت میں یہ مکان تینوں بیٹوں کاہے،اس میں بہن اوران کے لڑکوں کاکوئی حصہ  نہیں ہے، اوراگر تقسیم کرکے نہیں دیاتھا (جیساکہ صورت مسئولہ میں ہے)یامالکانہ حقوق نہیں دئیے تھے توایسی صورت میں  یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا،کیونکہ قابل تقسیم چیزکوہبہ میں تقسیم کرکے دیناضروری ہے اوراسی طرح قبضہ بھی دیناضروری ہے، اس صورت میں یہ مکان والدکے ترکہ میں شامل ہوگااورسب ورثہ کااس میں حصہ ہے،یعنی بہن کابھی اس میں حصہ ہے(بشرطیکہ بہن کاانتقال والدکے بعد ہواہو) اوربہن کے حصہ میں جتنی رقم آئے گی تووہ اس کے ترکہ میں شامل ہوکراس کے بیٹوں میں تقسیم ہوگی،فیصدی اعتبارسےبہن کاحصہ 14.2857بنتاہے۔

حوالہ جات

فی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (ج 14 / ص 283):

قال علماؤنا :إذا وهب مشاعا يحتمل القسمة لا يجوز سواء وهب من الأجنبي أو من شريكه ، وقال الشافعي :يجوز من الأجنبي ومن الشريك ، وقال ابن أبي ليلى: إن وهب من الأجنبي لم يجز، وإن وهب من الشريك جاز، وأجمعوا على أنه إذا وهب ما لا يحتمل القسمة فإنه يجوز.

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

 ۱/ربیع الثانی ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب