03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح کی وکالت پر گواہ بنانے کا حکم
81494نکاح کا بیاننکاح کی وکالت کابیان

سوال

نکاح نامے کی شق نمبر 8 (دلہن کے وکیل کے تقرر کے بارے میں گواہوں کے نام ، ولدیت اور سکونت کی شرعی حیثیت بیان کر دیجیئے). ہمارے ہاں (مظفرآباد، آزاد کشمیر) میں تقریب نکاح میں باقاعدہ دو افراد کو مقرر کیا جاتا ہے جو دلہن (جو کہ تقریب نکاح کی مجلس سے دور کسی کمرے میں خواتین کے ساتھ ہوتی ہے) کے پاس جا کر اس سے نکاح کی اجازت طلب کرتے ہیں ۔ اکثر عورت کے پاس اجازت طلب کرنے کے لیے جانے والے افراد غیر محرم ہوتے ہیں ۔ کیا نکاح کے گواہان کے علاوہ ان دو گواہوں کا تقرر بھی ضروری ہوتا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح کے لیے کسی کو وکیل بنانے پر گواہان کا تقرر شرعا ضروری نہیں، لیکن قانونی تقاضہ پورا کرنے کے لیے ضروری ہے اور بہتر یہ ہے کہ یہ گواہ محارم میں سے ہوں تاکہ بے پردگی نہ ہو۔ البتہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے نکاح کے گواہان کا ہوناضروری ہے۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله واعلم أنه لا تشترط الشهادة على الوكالة بالنكاح بل على عقد الوكيل، وإنما ينبغي أن يشهد على الوكالة إذا خيف جحد الموكل إياها. (رد المحتار: 221,222/4)

في الفتاوى الهندية: يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانية ناقلا عن خواهرزاده(الفتاوى الهندية: 324/1)

قال العلامة ابن الهمام رحمه الله : ولا تشترط الشهادة على الوكالة بالنكاح بل على عقد الوكيل، وإنما ينبغي أن يشهد على الوكالة إذا خيف جحد الموكل إياها. ( فتح القدير : 313/3)

عبد الهادی

دار الافتاء، جامعۃ الرشید کراچی

26 ربیع الاول 1445 هـ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالهادى بن فتح جان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب