| 81512 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:کیافرماتےہیں علماءکرام ومفتیان عظام دامت برکاتہم !
میری بہن کی شادی محمدعمران قائم خانی کےہمراہ ہوئی ،اوران سےدوبیٹے ایک بیٹی ہے،اس نےمیری بہن کو طلاق دی ہے،اس کو چندسال گزرچکےہیں،اب دونوں میاں بیوی کارجحان ہے،وہ چاہتےہیں کہ ہم دونوں کادوبارہ ملاپ ہوجائےہم نےعقد ثانی کےلیےدوسراشخص تیار کیاہے،اب اس کی مرضی ہےرکھےیاطلاق دے،ہم یہ چاہتےہیں کہ یہ کام خفیہ طورپر ہو،اس طرح کرناجائزہےیانہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حلالہ کےلیےنکاح میں تفصیل یہ ہےکہ اگرنکاح کےوقت طلاق دینےکی شرط نہ لگائی گئی ہواوربعدمیں دوسرشوہراپنی مرضی سےطلاق دیدےاوربیوی دوسرےشوہرکی طرف سےدی گئی طلاق کی عدت گزارکردوبارہ سابقہ شوہر سےنکاح کرسکتی ہے۔
سوال میں مذکورجملہ( اس کی مرضی ہےرکھےیاطلاق دیدے) سےمعلوم ہوتاہےکہ نکاح کےوقت طلاق کی شرط نہیں لگائی گئی تھی،لہذاموجودہ صورت میں مذکورہ بالا طریقہ کےمطابق حلالہ کےبعد بیوی پہلےشوہرسےنکاح کرسکتی ہے۔
واضح رہےکہ حلالہ میں بھی نکاح کےمنعقدہونےکےلیےشرعاضروری ہےکہ نکاح کی مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں مہرمقررکرکےباقاعدہ نکاح کیاجائے،ہاں علی الاعلان جس طرح مساجد میں بھرےمجمعےمیں نکاح کیاجاتاہے،اس طرح نہ ہوتو شرعا کوئی حرج نہیں۔
حوالہ جات
ھدایۃ " 2 /378:وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ الخ لاتحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحاصحیحاویدخل بہاثم یطلقہاأویموت عنہا۔
"الفتاوى الهندية " 10 / 209:رجل تزوج امرأة ومن نيته التحليل ولم يشترطا ذلك تحل للأول بهذا ولا يكره وليست النية بشيء ولو شرطا يكره وتحل عند أبي حنيفة وزفر - رحمهما الله تعالى - كذا في الخلاصة وهو الصحيح هكذا في المضمرات ۔
"الجوهرة النيرة شرح مختصر القدوري" 5 / 113:
( قوله وإذا تزوجها بشرط التحليل فالنكاح مكروه )لقوله عليه السلام { لعن الله المحلل والمحلل له } وقال { ألا أنبئكم بالتيس المستعار ، قيل من هو ؟ قال المحلل } ، وهذا يفيد الكراهة وصورته أن يقول : تزوجتك على أن أحللك أو قالت المرأة ذلك أما إذا أضمر الثاني في قلبه الإحلال للأول ، ولم يشترطه في العقد لفظا ودخل بها حلت للأول إجماعا كذا في المصفى وقوله فالنكاح مكروه يعني للثاني والأول ( قوله فإن وطئها حلت للأول ) هذا عند أبي حنيفة وزفر ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
5/ربیع الثانی 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


