03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مکروہ اوقات میں ایک سے زائد طواف کرنااور مکروہ وقت ختم ہونے کے بعد اکٹھے طواف کی دودورکعت واجب ادا کرنے کا حکم
81526حج کے احکام ومسائلحج کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

فجرکے بعد اشراق تک اور عصر کے بعد غروب آفتاب تک نفل نماز نہیں پڑھ سکتے تو کیا ایسا کیا جاسکتا ہے کہ ان اوقات میں ایک سے زائد طواف کر لیے جائیں اور پھر مکروہ وقت ختم ہونے کے بعد اکٹھے تمام طوافوں کی دو دو رکعت واجب ادا کر لی جائیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جی ایسا کیا جاسکتا ہے،شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں،البتہ اگر عصر کی نماز کے بعد طواف کیا تو مغرب کا وقت داخل ہونے کے بعدمغرب کی فرض نماز ادا کرے،اس کے بعدپہلے طواف کی دو رکعت واجب ادا کرے پھر مغرب کی سنتیں وغیرہ ادا کرے۔

حوالہ جات

ويكره تأخيرها عن الطواف إلا في وقت مكروه أي؛ لأن الموالاة سنة، ولو طاف بعد العصر يصلي المغرب ثم ركعتي الطواف ثم سنة المغرب ولا تصلى إلا في وقت مباح.(البحرالرائق، باب الاحرام :الاغتسال ودخول الحمام للمحرم،ج:2،ص:356)

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

       ۰۷.ربیع الثانی۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب