| 81526 | حج کے احکام ومسائل | حج کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
فجرکے بعد اشراق تک اور عصر کے بعد غروب آفتاب تک نفل نماز نہیں پڑھ سکتے تو کیا ایسا کیا جاسکتا ہے کہ ان اوقات میں ایک سے زائد طواف کر لیے جائیں اور پھر مکروہ وقت ختم ہونے کے بعد اکٹھے تمام طوافوں کی دو دو رکعت واجب ادا کر لی جائیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جی ایسا کیا جاسکتا ہے،شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں،البتہ اگر عصر کی نماز کے بعد طواف کیا تو مغرب کا وقت داخل ہونے کے بعدمغرب کی فرض نماز ادا کرے،اس کے بعدپہلے طواف کی دو رکعت واجب ادا کرے پھر مغرب کی سنتیں وغیرہ ادا کرے۔
حوالہ جات
ويكره تأخيرها عن الطواف إلا في وقت مكروه أي؛ لأن الموالاة سنة، ولو طاف بعد العصر يصلي المغرب ثم ركعتي الطواف ثم سنة المغرب ولا تصلى إلا في وقت مباح.(البحرالرائق، باب الاحرام :الاغتسال ودخول الحمام للمحرم،ج:2،ص:356)
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۰۷.ربیع الثانی۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


