03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تمام ورثا کی رضامندی سےایک بھائی کو دی گئی زمین پر ان کی اولاد کا دعوی کرنا
81531میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرا نام محمد عثمان ہے اور میرے  پردادا کا نام بہرام ہے،جن کے پانچ بیٹے تھے،جن کے نام درج ذیل ہیں

جمگے،خیستگے،فضلے،شاگے اور محمود

میں ان میں سے فضلے کا پوتا ہوں،بہرام کی زمینوں کی تقسیم ان کی وفات کے بعد ہوئی،اس طور پر کہ آباد یعنی زرخیز زمین خیستگے کے علاوہ بقیہ چار بیٹوں میں تقسیم کی گئی،کیونکہ وہ بہرام کی زندگی میں ہی فوت ہوچکے تھے اور ان کی کوئی نرینہ اولاد بھی نہیں تھی،صرف دو بیٹیاں تھیں۔

بہرام کی وفات کے بعد سلطان محمود سردار بنے اور ان کی نگرانی میں یہ آباد زمین تقسیم ہوئی،البتہ وہ زمین جو غیر آباد تھی،یعنی جس پر غلہ نہیں اگتا تھا وہ باقاعدہ طور پر تقسیم نہیں کی گئی۔

فضلے کو جو زمین ملی تھی وہ نشیبی تھی،اس پر سیلاب آتا تھا اور پہاڑوں کی آڑ کی وجہ سے اس پر دھوپ بھی نہیں پڑتی تھی، تو فضلے نے محمود سردار سے درخواست کی،جس پر اس نے تمام زندہ بھائیوں کی رضامندی سے غیرآباد زمین کا کچھ حصہ فضلے کو دے دیا۔

اب معاملہ یہ درپیش ہے کہ خیستگے کی بیٹی جو جمگے کے بیٹے کے نکاح میں ہے اس زمین کی تقسیم کا مطالبہ کررہی ہے جو بعد میں محمود سردار نے تمام زندہ بھائیوں کی رضامندی سے فضلے کو دی تھی،کیا اس کا یہ مطالبہ درست ہے اور اس حوالے سے کورٹ میں کیس دائر کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے،ان کا اس زمین میں حق ہے یا نہیں،جبکہ جمگے کے بیٹوں کو پہلے ہی اپنا حصہ مل چکا ہے۔

تنقیح:واضح رہے کہ جس وقت فضلے کو یہ زمین دی گئی تھی اس وقت والد کی وفات کےوقت موجود تمام ورثا حیات تھے اور ان سب کی رضامندی اس میں شامل تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل سچ اور حقیقت پر مبنی ہے کہ مذکورہ زمین ان تمام بھائیوں کی رضامندی سے فضلے کو دی گئی جن کا اس زمین میں حصہ تھا تو اب ان کے ورثا کا اس زمین سے کسی قسم کا کوئی حق متعلق نہیں ہے،لہذا دوسرے کی زمین ناجائز طور پر ہتھیانے کے لئے کورٹ جاکر کیس دائر کرنا شرعا جائز نہیں۔

حوالہ جات

.........

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

07/ربیع الثانی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب