| 81546 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
ہمارے گاؤں میں کافی پرانی مسجد ہے، گاؤں کی آبادی 500 سو افراد سے زیادہ ہے، گاؤں کی سڑک پکی ہے جس پر بڑی گاڑی سے لے کر چھوٹی گاڑی تک ہر طرح کی گاڑیاں چلتی ہیں۔ گاؤں میں ایک اسکول ہے، تین عدد دکانیں ہیں، جن میں سے ایک دکان سبزی کی ہے اور باقی دو دیگر اشیائے ضرورت کی ہیں۔گاؤں کی گلی بھی مسجد تک پکی ہے۔ہمارے گاؤں سے لوگ پیدل سفر کر کے دو کلومیٹر دور دوسرے گاؤں میں جمعہ پڑھنے جاتے ہیں، یہ سارا سفر اوپر پہاڑی کا کرنا ہوتا ہے، کمزور افراد بڑی مشکل سے جاپاتے ہیں اور کچھ افراد جمعہ سے محروم ہوجاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم اپنے گاؤں میں جمعہ شروع کر سکتے ہیں یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حضراتِ حنفیہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی جگہ نمازِ جمعہ کے جواز کے لیے اس جگہ کامصر، فناءِمصر یا قریۂ کبیرہ یعنی قصبہ ہوناضروری ہے۔ ان تینوں کی تعریفات درجِ ذیل ہیں:-
(1)۔۔۔ "مصر" کی تعریف حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے یہ مروی ہے:
"مصر" ایسا بڑا شہر ہوتا ہے جس میں مختلف گاؤں، محلے اور بازار ہوں، اور اس میں ایسا والی ہو جو علم وقوت کے ذریعے مظلوم کو ظالم سے انصاف دلانے پر قادر ہو اور لوگ پیش آمدہ حادثات ومسائل میں اس کی طرف رجوع کرتے ہوں۔ (تحفۃ الفقهاء:1/ 162)
(2)۔۔۔ "فناءِشہر" سے مراد شہر سے متصل وہ جگہ ہے جس سےشہروالوں کی ضروریات وابستہ ہوں۔
(3)۔۔۔ "قصبہ" کی تعریف علامہ ظفر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی ہے:
"جہاں چار ہزارکےقریب یا اس سےزیادہ آبادی ہو،ایسا بازار موجودہو جس میں دُکانیں چالیس، پچاس متصل ہوں، اور بازار روزانہ لگتاہو، اور بازار میں ضروریات روز مرّہ کی ملتی ہوں، مثلاً: جوتہ کی دُکان بھی ہو، اور کپڑےکی بھی،عطّارکی بھی ہو بزاز کی بھی،غلّہ کی بھی اور دودھ گھی کی بھی، اور وہاں ڈاکٹر یاحکیم بھی ہوں، معمار و مستری بھی ہوں وغیرہ وغیرہ، اور وہاں ڈاکخانہ بھی ہو، اور پولیس کاتھانہ یاچوکی بھی ہو۔اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سےموسوم ہوں۔ پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں گے وہاں جمعہ صحیح ہوگا، ورنہ صحیح نہ ہوگا۔ (امدادالاحکام :1/ 756)
در اصل قصبہ کی تعریف عرف پر مبنی ہے، اس لیے فقہائے کرام نے اس میں آبادی کی کوئی متعین مقدار مقرر نہیں فرمائی، بلکہ بطورِ مثال ایک تعداد بیان فرمالیتے ہیں، جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معتد بہ آبادی ہو اور اس جگہ کی مجموعی ہیئت ایسی ہو کہ اسے بڑا گاؤں کہا جاسکے۔ چنانچہ بعض فتاوی میں دو ڈھائی ہزار کی آبادی کو بھی اپنی مجموعی ہیئت اور ضروریات دستیاب ہونے کی صورت میں قصبہ قرار دیا گیا ہے۔ (ملاحظہ فرمائیں: فتاویٰ رحیمیہ: 6/101۔ فتاویٰ دار العلوم دیوبند:5/57۔54۔55۔41۔ خیر الفتاویٰ: 3/41)
مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق آپ کے گاؤں پر قصبہ کی تعریف صادق نہیں آتی، اس لیے وہاں جمعہ قائم کرنا جائز نہیں، بلکہ ظہر کی نماز پڑھنا ضروری ہے۔ آپ کے گاؤں والوں پر جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے دوسری جگہ جانا واجب نہیں، وہ جمعہ نہ پڑھنے کی وجہ سے گناہ گار نہیں ہوں گے؛ کیونکہ وہ اس کے مکلف ہی نہیں۔
حوالہ جات
إعلاء السنن (5/2247):
2015- عن علی رضی الله عنه أنه قال: "لا جمعة، ولا تشریق إلا فی مصر جامع". أخرجه أبو عبید بإسناد صحیح إلیه موقوفاً. ومعناه لا صلاة جمعة، ولا صلاة عید. کذا فی فتح الباری، ورواه عبدالرزاق فی مصنفه: أنبأ الثوری عن زبید الأیامی عن سعد بن عبیدة عن أبی عبد الرحمن السلمی عن علی قال: "لا تشریق، ولا جمعة إلا فی مصر جامع"، کذا فی نصب الرایة، وفی الدرایة: إسناده صحیح.
تحفة الفقهاء (1/ 162):
وأما المصر الجامع فقد ذكرالكرخي ما أقيمت فيه الحدود ونفذت فيه الأحكام ، وقد تكلم فيه أصحابنا بأقوال: وروي عن أبي حنيفة هو بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق، وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره ويرجع الناس إليه فيما وقع لهم من الحوادث وهذا هو الأصح.
رد المحتار (2/ 138):
قوله ( وفي القهستاني إلخ ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني: تقع فرضاً في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
9/ربیع الثانی/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


