| 81554 | نکاح کا بیان | نکاح صحیح اور فاسد کا بیان |
سوال
میری شادی خالہ زاد بہن سے ہوئی ، میں خود سنی فرقہ سے تعلق رکھتا ہوں جبکہ میری بیوی شیعہ فرقہ سے تعلق رکھتی ہے ، ہمارا نکاح ایک شیعہ مولوی نے پڑھایا ، لیکن میری بیوی نے ہمارے گھر آکر سنی طریقہ اپنانہ شروع کیا ، آخر میں ہمارے درمیان اختلافات شروع ہوگئے ۔ اور میری بیوی ناراض ہوکر میکے چلی گئی ، اس کے ابو نے میرے ابو کو بلا کر کہاکہ جب دونوں کی بن نہیں رہی ہے تو آپ کا بیٹا ،میری بیٹی کو طلاق دیدے ،پھر مجھے بلا یا میں جب وہاں سسرال پہنچا تو وہی شیعہ مولوی موجود تھا ، لڑکی کا ابو مجھ سے طلاق کا مطالبہ کررہے تھے ، مجھے پتا یہ چلا کہ لڑکی کو چار ماہ کاحمل ہے ،شیعہ مولوی نے کہا کہ بچہ پیٹ میں ہو تب بھی طلاق ہوجائےگی، تو میں نے طلاق دیدی ،اس کے بعد لوگوں نے بتایا کہ تمہاری طلاق نہیں ہوئی ، لہذا بیوی کو لاسکتے ہو ،بچہ پیدا ہونے کے بعد میں نے اپنے والدین کو ان کے گھر بھیجا ، لڑکی کے والدین نہیں مانے ، لیکن لڑکی خود آنے کے لئے راضی ہے ،سسر یہ کہہ رہا ہے کہ میرا شیعہ مذھب ہے ،تم دوبارہ نکاح پڑھوا کر لے جاسکتے ہو،اب مجھے بتایاجائے کہ اس بارے میں سنی مذھب کیاکہتا ہے ؟ بیوی کو واپس لانے کی کیا صورت ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جو لوگ کفریہ عقائد کے حامل ہیں ﴿کہ قرآن کریم کو مکمل نہیں مانتے ،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں الوہیت کاعقیدہ رکھتے ہیں ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاپر زناکی تہمت رکھتے ہیں ،یا یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے وحی لانے میں غلطی کی ،اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے صحا بی ہونے کا انکار کرے ﴾ ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں، ان لوگوں کے ساتھ شادی بیاہ کا تعلق رکھنا جائز نہیں ، اگر نکاح کرلےتو وہ منعقد نہیں ہوتا ۔ اگر کسی کا عقیدہ کفرتک تو نہیں پہنچا لیکن اپنے کو کفریہ عقائد والوں کی طرف منسوب کرتا ہے ، اور ان کی مجالس میں شرکت کرتا ہے ، اور شادی بیاہ انہی کے طریقہ پرکرتا ہے ،ایسے میں دینی فتنوں میں مبتلاہونے کا شید ید خطرے کے باعث سنی مسلمان کےلئے کسی ایسی بد عقیدہ لڑکی سے نکاح کرنا جائز نہیں ، لہذا مسئولہ صورت میں جب آپ نے طلاق دے کراس کو فارغ کردیا ہے ، اب دوبارہ اس کو بیوی بناکر لانا جائز نہیں ، آپ کسی سنی لڑکی سے نکاح کرکے جائز زندگی گزار نےکی کوشش کریں ۔نیز یہ کہ حمل کی حالت میں دی ہوئی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے ۔
حوالہ جات
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ } [الممتحنة: 1]
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 237)
وقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء من ألفاظ التكفير المذكورة في كتب الفتاوى، نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن، ولكن لو تاب تقبل توبته، هذا خلاصة ما حررناه في كتابنا تنبيه الولاة والحكام،
{لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (8) } [الممتحنة: 8، 9]
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۹ ربیع الثانی ١۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


