03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دھمکی اورڈیپریشن کی حالت میں دی گئی دو طلاقوں کا حکم
81557طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میرا مفتی حضرات سے سوال ہے کہ جب شوہر اپنی دماغی حالت جس سے مراد دیوانی کیفیت، ڈپریشن اور دیگر ذہنی مسائل ہیں، توکیا اسٹامپ پیپر پر لکھی ہوئی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ میرے والد نے میرے سے تینوں اسٹامپ پیپر پر دستخط کروا لیے تھے، جب کہ میں نے زبان سے طلاق کا لفظ ادا نہیں کیا ،علماء حضرات کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کہانی کی تفصیل کچھ یوں ہے:

میں سید محمد عمر بخاری لاہور کا رہائشی ہوں۔ میری شادی میرے والدین کی رضا مندی سے2اکتوبر2022 کو ہوئی۔ شادی کے پہلے چندہفتے بخیر و عافیت گزرے،پھر میرے والدین کی گھریلو امور پر دخل اندازی شروع ہو گئی۔ جس سے گھر کا ماحول خراب ہو گیا۔ میری والدہ گالم گلوچ اور جسمانی تشدد کرتی تھی۔ لہٰذا کچھ وقت مزید گزرا ، لہٰذا میں نے اپنی بہن کو فون کیا کہ میں گھر چھوڑ کر جانا چاہتا ہوں۔ یہ واقعہ عیدالفطر کے دو دن بعد کا ہے۔ میری بہن نے اس بارے میں والد صاحب کو مطلع کیا ۔و الد کو بہن نے یہ خبر رات12:30بجے دی۔ جس پر والد صاحب مجھ سے بات کرنے کے لئے میرے کمرے میں آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا اوردروازہ پیٹنا شروع کر دیا۔ یہ شور سن کر میری والد ہ نے دوسرا دروازہ زور سے پیٹا، جس کی  وجہ سے کنڈی ٹوٹ گئی، بیٹے نے اس بات پر غصہ کیا کہ آپ بہو کے کمرے  میں ایسے نہیں آسکتی۔ یہ حد کراس ہونے پر بیٹے نے گھر سے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ 14/15گھنٹے کی مسلسل لڑائی کے بعد میں نے اپنا سامان اٹھایا اور سسرال شفٹ ہو گیا۔

میرے والد صاحب کے دوست جن کے ساتھ میں بزنس کر رہا تھا۔ انہوں نے ثالثی کا کردار ادا کرکے مجھے اور میری زوجہ کو واپس بھجوا دیا۔ میری بیوی کی مسلسل ڈیمانڈ یہ تھی۔ مجھے الگ گھر لے کر دو میں تمہارے والدین کیساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ میں ابو کے دوست کے ساتھ جو کاروبار کر رہا تھا۔ میرے والد نے اور ان کا دوست جو میرا بزنس پارٹنر تھا۔ انہوں نے باہمی رضا مندی سے میرا سار ا پیسہ روک لیا اور مجھے ماہانہ50,000روپے دینا شروع کر دیے۔ اسی دوران میرے والدین 40دن کے لئے حج پر چلے گئے۔

میں والد صاحب کو مسلسل کہتا رہا کہ میں اب شادی شدہ ہوں، میرے اپنے اخراجات ہیں جو کاروبار میں پیسہ لگا ہے، ان کا تمام اختیار مجھے واپس دیں۔ میں فون پر مسلسل کہتا رہا کہ کاروبار کے پیسے میرے حوالے کریں میرا50,000روپے میں گزارا نہیں ہوتا۔15/20دن مسلسل لڑائی کے بعد میں نے والد صاحب سے کہا کہ میں کاروبار پر جانا چھوڑ دوں گا۔

جب میرے والدین حج پر گئے ہوئے تھے تو میں اور میری بیوی کے سکردو جانے کا پروگرام بنا، تا کہ سیروتفریح میں ذرا ذہنی دباؤ کم ہو جائے اور ماحول بہترہو جائے۔ سکردو میں تقریباً ایک ہفتہ گزارنے کے بعد واپسی پر میں نے پیسوں کا مطالبہ شروع کیا۔ عیدالفطر سے مسلسل میں عجیب ڈپریشن کا شکار ہو گیا، جن میں تقریباً48گھنٹوں سے مسلسل جاگنا میرا معمول بن گیا۔جس سے میری ازدواجی زندگی بہت ڈسٹرب ہو گئی۔ میری بیوی سکردو سیروتفریح سے واپس آکر بڑی عید کے کچھ دنوں بعد ایک ہفتے کے لئے اپنے گھر چلی گئی ،اس کے بعد دو دن کے لئے واپس آئی، اس سے اگلے دن وہ اپنے والد کے گھر گئی اور رات 2بجے مجھے فون آیا کہ میں صبح آؤں گی ۔ میں نے اس سے کہا کہ تمہارا وعدہ تھا کہ تمہارے والد تمہیں چھوڑ دیں گے۔ لیکن اس نے فوری طور پر آنے سے انکارکر دیا۔ میں نے اس کے والد کو فون کیا اور کہا کہ میری بیوی نے آج واپس آنے کا وعدہ کیا ہے۔ لہٰذا آپ اس کو ڈراپ کر دیں پھر وہ چھوڑنے پر رضا مند تھے۔ لیکن پھر انکار کر دیا اور کہا کہ تم ملنا چاہتے ہو تو آکر مل لو۔ میں اس کو لینے گیا، لیکن وہ نہ آئی، یہ14جولائی کا واقعہ ہے اور 17جولائی کو میری بیوی نے طلاق کا فون مسیج پر مطالبہ کر دیا۔ میرے والدین نے حج سے واپسی پر اس کے والد ، ثالثی اور میرے والد کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات پر لڑکی کے والد نے ان شرائط پر کہ لڑکی کو الگ مکان اور لڑکا دیگر تمام اخراجات برداشت کرے تو ہم لڑکی کو بجھوا دیتے ہیں، جس کا میرے والد نے صاف انکار کر دیا۔ جب کہ میں علیحدہ میں رہنے پر رضا مند تھا۔ اس کے والد صاحب نے کہا، اگر آپ شرائط پوری نہیں کر سکتے تو پھر میری بیٹی کو طلاق دے دیں۔ 17جولائی کو میری بیوی نے مجھے میسج کیا کہ میری استعمال کی جو اشیاء تمہارے گھر تھیں وہ واپس پہنچاؤ ، ورنہ میرا باپ اور بھائی تمہیں دیکھ لیں گے، اس کا باپ14جولائی کو استعمال کی ہوئی کافی اشیاء لے جا چکا تھا اور اس وقت میری بیوی اپنے باپ کے ہمراہ تھی، میں نے اپنے سسر کو کہا کہ میری بیوی کو میرے ہی گھر میں رہنے دیں میں اس کو آپ کی طرف ڈراپ کر دوں گا۔

17جولائی کو میسج آیا کہ میرے والد اور بھائی تمہیں دیکھ لیں گے۔ ہمارا گھر شہر سے کافی دور ایک نئی سوسائٹی میں ہے جو ابھی زیادہ آباد نہ ہے۔ لڑکی کا والد جو کہ ایک ریٹائرڈ آرمی آفیسر ہے اور گاڑی میں اپنے ساتھ ہر وقت اسلحہ رکھتا ہے اور میں گھر میں اکیلا تھا اور والدین حج پر گئے ہوئے تھے۔ لہٰذا مجھے گھر چھوڑ کر دوست کی طرف دوسرے شہر منتقل ہونا پڑا۔ میرے سسر کے اصرار پر میرے والد نے مجھ سے جبراً طلاق کے اسٹامپ پیپر دستخط و انگوٹھا جات لگوائے۔ جب کہ لڑکی کا باپ چاہتا تھا کہ تینوں طلاقیں اسٹامپ پیپر پر ایک ہی ٹائم میں دستخط انگوٹھا جات دئیے جائیں۔ میں نے والد سے کہا کہ آپ میرے ولی نہیں ہیں، آپ میرا فیصلہ نہیں کر سکتے، آپ مجھے پیسے دیں کہ میں اپنا الگ جا کر گھر بساؤں، مگر انہوں نے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ پیسے نہ دینے کی وجہ سے مسلسل گھر میں تلخ کلامی ہو رہی تھی۔ اور راتوں کو جاگنا میرا معمول بن گیا تھا۔ ایک دن دباؤ میں آکر گواہوں کی موجودگی میں جبراً سائن کروا لئے جب کہ میں رضا مند نہیں تھا۔

اب میرے والدین نے مجھ سے بعد میں کہا کہ ہم تمہیں کام کے لئے پیسے دیتے ہیں، جا کر اپنی زندگی بساؤ۔ اس وقت میری10,000/-تنخواہ بنتی ہے اور کاروبار بھی ساتھ کر رہا ہوں۔یونین کونسل میں دو طلاق  کے پیپر جمع ہو چکے ہیں اور نوٹس جاری ہو چکے ہیں۔ میری بیوی یونین کونسل جا کر بیان دے چکی ہے، ہم دونوں کی یونین کونسل الگ الگ ہیں۔ مورخہ22.08.2023کو پیش ہو چکی ہے۔ اب تیسرا نوٹس یونین کونسل میں جمع ہونے سے پہلے میں رجوع کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے مفتی طارق مسعود کا بیان سنا ہے کہ جبرتھوڑا ہو یا زیادہ ہو اگر زبان سے نہیں کہا تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لہٰذا میں اپنی بیوی سے رجوع کرنا چاہتا ہوں۔ جب کہ تیسرا نوٹس طلاق جمع کروانے میں بہت کم وقت رہ گیا ہے۔

میرا مفتی حضرات سے مکالمے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ فتویٰ لے کر گنجائش نکالی جا سکتی ہے، میں نے طلاق زبان سے نہیں دی۔

سوال یہ ہے کہ اس غم ، ڈپریشن ، ذہنی ٹارچر اور والدین حج پر تھے اور میں گھر میں اکیلا تھا،  بیوی کے چھوڑ جانے سے میری حالت مجنون جیسی ہو گئی ہے۔ جس کی وجہ سے  میں نے گھر میں خودکشی کی کوشش بھی کی،  میں نے طلاق نامہ میں طلاق کا لفظ خود لکھوایا ہے ۔ اب میں اپنے والدین سمیت لڑکی والوں سے رجوع کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے مفتی طارق مسعود اور دیگر علماء اکرام سے مکالمے کے بعد کسی حوالے سے لڑکی کے ماموں سے رابطہ کیا ہے کہ ہم رجوع کرنا چاہتے ہیں اور اللہ کی رضا کی خاطر گھر بسانا چاہتے ہیں۔ جزاکم اللہ خیرا

وضاحت: سائل نے بتایا کہ طلاق کا تیسرا نوٹس بھی بھیج دیا گیا ہے، لیکن میں نے صرف دستخط کیے ہیں، باقی سارا کام وکیل نے کیا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ مجھے میری بیوی نے کہا تھا کہ اگر تم نے طلاق نہ دی تو میرے بھائی اور والد تمہیں دیکھ لیں گے، چنانچہ ڈر کی وجہ سے میں تین دن تک گھر سے غائب رہا، پھر جب والدین حج سے واپس آئے اور معاملات شروع ہوئے تو سسر کی طرف سے اصرار تھا کہ بچوں کو علیحدہ رہنے کا موقع دیں،مگر میرے والد راضی نہ ہوئے تو انہوں نے طلاق کا مطالبہ کیا، اس دوران پھر مجھے کسی دوست کا فون آیا کہ آپ گھر سے نہ نکلیں، آپ کو خطرہ ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے میری بیوی مجھے دھمکی دے چکی تھی، چنانچہ میں پندرہ دن تک گھر سے نہ نکلا۔ پھر ایک دن میرے والد کو تھانہ سے فون آیا کہ آپ اس معاملے کو حل کیوں نہیں کرتے، اس کو جلدی حل کرو۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نطر والد صاحب نے طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کروائے۔ اگر میں طلاق نہ دیتا تو مجھے سسرال کی طرف سے نقصان پہنچنے کا غالب اندیشہ تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سائل کی صورتِ حال کے مطابق سوال کا جواب دیتا ہے، لہذا اگر سائل نے غلط بیانی کرکے اپنی مرضی کا فتوی لے لیا تو اس کا گناہ اسی کو ہو گا اور اس کی وجہ سے شرعاً بیوی حلال نہیں ہو گی۔ نیز مفتی پر اس کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔

شریعت اسلامیہ میں جبر واکراہ یعنی زور اورزبردستی کے احکام علیحدہ ذکر کیے گئے ہیں، البتہ جبر اور اکراہ کے معتبر ہونے کے لیے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے درج ذیل چار شرائط ذکر کی ہیں:

پہلی شرط: جس شخص کی طرف سے دھمکی دی گئی ہو وہ اس کے پورا کرنے پر قدرت رکھتا ہو۔

دوسری شرط: جس شخص کو دھمکی دی گئی ہو اس کا یقین یا غالب گمان ہو کہ دھمکی دینے والا شخص مذکورہ کام نہ کرنے کی صورت میں دھمکی پر عمل کرگزرے گا۔

تیسری شرط: جس چیز کی دھمکی دی گئی ہو وہ جان سے مارنا یا کسی عضو کو ضائع کرنا یا کوئی ایسی چیز ہو کہ اس کے خوف کی وجہ سے اس کام کے کرنے پر آدمی کی رضامندی باقی نہ رہے۔

چوتھی شرط: جس کام کے کرنے پر آدمی کو مجبور کیا جا رہا ہو، آدمی اکراہ اور زبردستی سے پہلے کسی شرعی یا انسانی حق کی وجہ سے اس کام کو نہ کر رہا ہو۔

مذکورہ بالا چاروں شرائط موجود ہوں تو اکراہ شرعاً معتبر ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے شرعی حکم بدل جاتا ہے، لہذا سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر واقعتاً طلاق نہ دینے کی صورت میں آپ کو سسرال کی طرف سے کسی نقصان کا غالب اندیشہ تھا، جیسا کہ آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے کہ لڑکی کا والد ہروقت گاڑی میں اسلحہ رکھتا ہے اور اس کے ڈرکی وجہ سے میں پہلے تین دن اور پھرپندرہ دن تک گھر سے نہیں نکلا اور میرے والد کو بھی تھانہ سے کال آئی کہ اس معاملے کو حل کیوں نہیں کرتے؟ تو اس صورتِ حال میں دھمکی کے ڈر سے  بغیر طلاق کی نیت کے طلاق نامہ پر محض دستخط کرنے سے آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا آپ دونوں کے درمیان بدستور نکاح قائم ہے اور لڑکی کا آپ سے طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع لیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں۔

یہ بھی واضح رہے کہ بیوی کا علیحدہ گھر کا مطالبہ کرنا اس کا شرعی حق ہے، جو شریعت نے اس کو دیا ہے، والدین کا اس حق میں مداخلت کرنا شرعا ہرگز جائز نہیں، لہذا آپ کےوالدین کی ومہ داری ہے کہ وہ آپ کو اپنے ساتھ رہنے پر مجبور نہ کریں، بلکہ اپنی خوشی سے آپ دونوں  میاں بیوی کو علیحدہ زندگی گزارنے کا حق دیں۔ باقی علیحدہ گھر کی تفصیل یہ ہے کہ ایک بڑے گھر میں سے کم از کم ایک کمرہ کچن اور واش روم سمیت علیحدہ کر کے دیا جائے، جس میں شوہر کے والدین سمیت کسی مداخلت نہ ہو اور نہ ان جگہوں میں کسی کو عورت کی اجازت کے بغیرداخل ہونے کی اجازت ہو۔اس کے علاوہ صحن اگرچہ سب کے درمیان مشترک ہو۔

البتہ اگر والدین خدمت کے محتاج ہوں تو آپ کی ذمہ داری ہے کہ ان کی خدمت کا خود انتظام کریں، بیوی پر ان کی ذمہ داری نہ ڈالیں، البتہ اگر بیوی اپنی خوشی سے ان کی خدمت کرے تو یہ اس کا احسان اور اس کے لیے سعادت کی بات ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 379) دار الفكر،بيروت:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان.

فتاوى  قاضي خان(1/ 416) مكتبة رشيدية، كوئٹة:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة ههنا.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 175) دار الكتب العلمية:

وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه

منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا.

الدر المختار مع حاشية ابن عابدين (6/ 129) دار الفكر-بيروت:

(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير (أو لحق الشرع) كشرب الخمر والزنا إلا على المذاكير والعين بزازية.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 141) دار الفكر-بيروت:

 منع امرأته المريضة عن المسير إلى أبويها إلا أن تهبه مهرها فوهبته بعض المهر فالهبة باطلة، لأنها كالمكره.

قلت: ويؤخذ منه جواب حادثة الفتوى: وهي زوج بنته البكر من رجل فلما أرادت الزفاف منعها الأب إلا أن يشهد عليها أنها استوفت منه ميراث أمها فأقرت ثم أذن لها بالزفاف فلا يصح إقرارها لكونها في معنى المكرهة وبه أفتى أبو السعود مفتي الروم قاله المصنف في شرح منظومته تحفة الأقران في بحث الهبة.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 80) دار الكتاب الإسلامي:

وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الإكراه لما يجيء به من الاغتمام البين ومن الضرب ما يجد به الألم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه؛ لأنه يختلف باختلاف أحوال الناس فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديد وحبس مديد ومنهم من يتضرر بأدنى شيء كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملأ من الناس أو بحضرة السلطان. وفي الخانية، ولو أكره على بيع جارية ولم يعين فباع من إنسان كان فاسدا والإكراه بحبس الوالدين والأولاد لا يعد إكراها؛ لأنه ليس بإكراه ولا يعدم الرضا بخلاف حبس نفسه وفي المحيط، ولو أكره بحبس ابنه أو عبده على أن يبيع عبده أو يهبه ففعل فهو إكراه استحسانا.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 23) دار الكتب العلمية:

وقرأ ابن مسعود - رضي الله عنه - أسكنوهن من حيث سكنتم وأنفقوا عليهن من وجدكم ولأنهما استويا في سبب الوجوب وشرطه وهو ما ذكرنا فيستويان في الوجوب ويستوي في وجوبهما أصل الوجوب الموسر والمعسر؛ لأن دلائل الوجوب لا توجب

الفصل وإنما يختلفان في مقدار الواجب منهما - وسنبينه إن شاء الله تعالى في موضعه -، ولو أراد الزوج أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأم الزوج وأخته وبنته من غيرها وأقاربه فأبت ذلك؛ عليه أن يسكنها في منزل مفرد؛ لأنهن ربما يؤذينها ويضررن بها في المساكنة وإباؤها دليل الأذى والضرر ولأنه يحتاج إلى أن يجامعها ويعاشرها في أي وقت يتفق ولا يمكنه ذلك إذا كان معهما ثالث حتى لو كان في الدار بيوت ففرغ لها بيتا وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا: إنها ليس لها أن تطالبه ببيت آخر .

 الاختيار لتعليل المختار (4/ 8) دار الكتب العلمية، بيروت:

قال: (وعليه أن يسكنها دارا مفردة ليس فيها أحد من أهله) ، أما وجوب السكنى فلأنها من الحوائج الأصلية وهي من الكفاية فتجب كالطعام والشراب، وقد قال تعالى: {أسكنوهن} [الطلاق: 6] ، فكان واجبا حقا لها، وتكون بين قوم صالحين ليعينوها على مصالح دنياها ويمنعوه من ظلمها لو أراد، وليس له أن يشرك معها غيرها، لأنه قد لا تأمن على متاعها ولا تتخلى لاستمتاعها إلا أن تختار ذلك لأنها رضيت بنقص حقها، ولو كان في الدار بيوت وأبت أن تسكن مع ضرتها أو مع أحد من أهله إن أخلى لها بيتا منها وجعل له مرافق وغلقا على حدة - ليس لها أن تطلب بيتا آخر، وإن لم يكن إلا بيت واحد فلها ذلك.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراتشی

10/ربيع الثانی 1443ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب