03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھائی کابہنوں کو گواہ بنانا
81624طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

سوال: دوسری بات یہ کہ   وہ اپنی اس بات کے جواز میں بہنوں کو بطور گواہ پیش کرتا ہے،بہنوں کی تعداد بھی تین ہے، اب اس گواہی کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

یہاں یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کہ گاؤں میں خواتین کی  گواہی میں عام طور پرانکا شوہر بطور وکیل پیش ہوتا ہے، لہذا صرف دوبہنوئی گواہی بھی دینے کوتیار ہیں،مگر بہنیں گواہی نہیں دیناچاہتی یااس پر خاموش ہیں،آپ ان سوالات کا جواب دیں۔

        

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جہاں تک بہنوں کی گواہی کی بات ہےتوشرعااگرکوئی مردساتھ ہوتوبھائی کےحق میں دوبہنوں کی گواہی بھی معتبرہے،(کیونکہ اس طرح کےمعاملات میں گواہی کےشرعامعتبرہونےکےلیےضروری ہےکہ یاتودومردہوں یاپھر ایک مرداوردوعورتیں )لیکن اس کےلیےضروری ہےکہ دعوی شرعادرست ہوتوپھرگواہی کودیکھاجائےگا،یہاں توبھائی کادعوی ہی درست نہیں ،اس لیےبہن اگربہنوئی گواہی دیں بھی تواعتبارنہیں کیاجائےگا۔

وضاحت:اگربھائی کادعوی درست ہو(آپ کی طرف سےسوال میں ذکرکردہ صورت غلط بیانی پرمبنی ہو)یعنی   یہ زمین والدکی تھی یاایک ساتھ رہتےہوئےسب کےلیےمشترکہ طورپرخریدی گئی تھی اورپھروالدنےاپنی زندگی میں یہ جگہ چھوٹےبیٹےکےنام کرکےاس کےقبضہ میں بھی دیدی  تھی توپھریہ جگہ شرعا چھوٹےبھائی کی ذاتی  ہی شمارہوگی اور گواہی میں کسی ایک مردکےساتھ  بہنوں (دویاتین)کی گواہی بھی شرعامعتبرہوگی۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع،کتاب الشھادت9 /35:

واماسائرالقرابات کالاخ والعم والخال ونحوھم فتقبل شہادۃ بعضھم لبعض۔

"شرح مجلہ لسلیم رستم باز،الکتاب الخامس فی البینات،المادہ  1700 ص 1031:

فتقبل شہادۃ الاخ لاخیہ واختہ واولادھماکذا الاعمام واولادہ والاخوال والخالات والعمات۔

" شرح المجلۃ" 1/473 :

یملک الموھوب لہ الموھوب بالقبض ،فالقبض شرط لثبوت الملک ۔

"شرح المجلۃ"1 /462:

وتتم(الھبۃ)بالقبض الکامل لأنہامن التبرعات والتبرع لایتم الابالقبض الکامل ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

12/ربیع الثانی    1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب