| 81626 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
سوال:ایک نہایت افسوسناک صورتحال سے دوچار ہیں، حقیقی ماں بیٹے نے جنسی تعلق قائم کر رکھا ہے اور باقاعدہ ویڈیو بھی بناتے رہے، جو لیک ہونے پر متعدد لوگوں نے دیکھیں۔ ویڈیوز کا کثیر تعداد میں ہونا اس قبیح فعل کے ثابت ہونے کو تقویت دیتا ہے۔ اس صورتحال میں برائے مہربانی شرعی حکم کی وضاحت درکار ہے۔
اس قبیح فعل کی شرعی سزا کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ناجائزتعلقات قائم کرنابڑاگناہ ہے،قرآن وحدیث میں اس پرسخت قسم کی وعیدیں آئی ہیں،پھرماں سےاس طرح کےتعلقات قائم کرناتواوربھی سخت ترین گناہ ہے،بلکہ عقل سلیم فطرت سلیمہ اورشریعت ہراعتبارسےبدترین جرم ہےاس میں گناہ کی شدت اورسختی حددرجہ بڑھ جاتی ہے،اس لیےاگرکسی نےاپنی ماں سےاس طرح کوئی فعل سرزد ہواہےتواس کو چاہیےکہ اللہ تعالی کےحضور سچےدل سےتوبہ واستغفار کرے،اورآئندہ ایسانہ کرنےکاعزم مصمم کرے،ورنہ اللہ تعالی کی سخت پکڑ آسکتی ہے۔
اس قبیح فعل کی سزایہ ہےکہ اگرخدانخواستہ زناءبھی ہوگیاہوتوپھرتوحدزناء(بالغ شادی شدہ مردو عورت ہوں اورزناءشرعاثابت ہوجائےتوان کوسنگ سارکیاجائےاوراگرغیرشادی شدہ ہوں تو سوکوڑے مارے جائیں)جاری ہوگی۔
اوراگرزناء نہیں ہوا،صرف ناجائزتعلقات قائم کیےگئےہیں توزناء کی حدتوشرعاجاری نہیں ہوگی،البتہ اس برےفعل کےجرم میں عدالت مذکورہ شخص پرمناسب تعزیرجاری کرسکتی ہے۔
واضح رہےکہ حدزناء جاری کرنےیا پھر مناسب تعزیرجاری کرنےکااختیار اسلامی حکومت اور عدلیہ کوہے، انفرادی طورپرہرفرد کوسزاؤں کے نفاذ کا اختیار شریعت نے نہیں دیا،لہذاس کےلیےعدالت سےرجوع کرنا پڑےگا۔
حوالہ جات
"ردالمحتارعلی الدرالمختار" :6549/:
" فيشترط الإمام لاستيفاء الحدود"
"بدائع الصنائع"2379/:
"ألا ترى أن الإمام يملك أمورا لا تملكها الرعية وهي إقامة الحدود"
"الھندیۃ "1557/:
)الحد)وركنه : إقامة الإمام أو نائبه في الإقامة۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
12/ربیع الثانی 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


