03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عارضی طور پر بیٹے کے نام کئے گئے مکان کا حکم
81594میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد صاحب کا انتقال کم وبیش 35 سال پہلے ہوگیا تھا،جبکہ والدہ ان سے پہلے فوت ہوچکی ہیں،ان کی اولاد میں چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔

والد نے اپنا مکان بڑے بیٹے کے نام کیا تھا،کیونکہ رقم کے کچھ معاملات تھے،مکان کی خرید والد کے پیسے سے ہوئی،اپنی زندگی میں والد صاحب نے بڑے بیٹے مکان واپس نام کروانے کی کوشش کی،لیکن وہ نہ مانا،یہاں تک کہ والد صاحب فوت ہوگئے اور مکان پر بڑے بیٹے نے قبضہ کرلیا،اب اس بڑے بیٹے کا بھی انتقال ہوگیا ہے،البتہ ان کی ایک بیٹی حیات ہے۔

اس تمہید کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

آج 35 سال بعد ہم اپنے والد کی جائیداد کے مطابق شرعی تقسیم کریں یا اپنے بڑے بھائی کے مطابق،جبکہ ان کی نرینہ اولاد نہیں ہے۔

تنقیح:سائل سے فون پر معلوم ہوا کہ یہ مکان والد کے پیسوں سے خریدا گیا تھا،لیکن اس وقت طبیعت کی خرابی کی وجہ سے والد صاحب نے مکان عارضی طور پر بڑے بیٹے کے صرف نام کروایا،قبضہ نہیں دیا تھا اورمقصد اس کی ملکیت میں دینا نہیں تھا،یہی وجہ ہے کہ بعد میں بیٹے کے ارادوں کوبھانپ کر انہوں نے واپس اپنے نام کروانے کی کوشش کی،لیکن اس نے نہیں کیا۔

نیز اس مکان میں والد صاحب اپنے تمام بیٹوں کے ساتھ مقیم رہے،سوائے اس بیٹے کے جس کے نام یہ گھر کروایا تھا کہ وہ ان کی حیات ہی میں دوسرے مکان میں منتقل ہوگیا تھا،ان کی وفات کے بعد چھوٹا بیٹا مکان پر قابض ہوگیا۔

مکان بڑے بیٹے کے نام ہونے کی وجہ سے ایک بیٹے نے عدالت میں کیس کیا،لیکن کاغذات میں مکان بڑے بیٹے کے نام ہونے کی وجہ سے فیصلہ اس کے حق میں ہوا،اب اس بھائی کا انتقال ہوچکا ہے،اس کی صرف ایک بیٹی ہے،بیوی کا اس سے پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا،اب میراث کی تقسیم کا سارا اختیار مستفتی کے ہاتھ میں ہے،اس کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ آیا  یہ مکان والد کے ترکہ میں شامل ہوگا،یا عدالتی فیصلے کے مطابق بڑے بھائی کے ترکہ میں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ مذکورہ مکان والد نے عارضی طور پر بیٹے کے نام کروایا تھا،ان کا مقصد یہ مکان بیٹے کو ہبہ کرنا نہیں تھا،یہی وجہ ہے کہ انہوں نے زندگی میں یہ مکان اس کے قبضے اور تصرف میں نہیں دیا،بلکہ خود اپنے پاس رکھا،بلکہ واپس اپنے نام کروانا چاہے،اس لئے شرعی لحاظ یہ مکان والد کے ترکہ(وہ سونا،چاندی،نقدی،جائیداد،مال تجارت یا اس کے علاوہ کوئی بھی چھوٹا بڑا سامان جو وفات کے وقت ان کی ملکیت میں تھا سب ان کا ترکہ ہے) میں شامل ہوگا۔

حوالہ جات

"فقہ البیوع" (1/ 226):

"وماذکرنا من حکم التلجئة یقاربہ ما یسمی فی القوانین الوضعیة عقودا صوریة...

وھی ان تشتری ارض باسم غیر المشتری الحقیقی وتسجل الارض باسمہ فی الجھات الرسمیة وذلک لاغراض ضریبیة او لاغراض اخری ولکن المشتری الحقیقی ھو الذی دفع ثمنہ.....

وکذلک القانون الوضعی فی بلادنا یعترف بان المشتری الحقیقی ھو الذی یدفع الثمن اما الذی سجل العقد باسمہ صورة،فانہ یعتبر امینا للمالک الحقیقی ووکیلا لہ لاتخاذ الاجراءات القانونیة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

12/ربیع الثانی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب