| 81720 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
ہمارے قصبہ راہداریاں والہ کلور کوٹ بھکر جس کی آبادی 2000 سے متجاوز ہے ،40 کے قریب دکانیں ، جن میں جنرل سٹور، کریانہ سٹور ،کپڑے کی دکانیں ، جوتے کی دکانیں ، اس کے علاوہ آڑھت کی دکانیں،2 قصاب کی دکانیں ہیں ، 2 طبی علاج ،4 آٹاچکی، روڈ ، ٹریفک کی سہولت میسر ہے ۔قصبے میں کل مساجد 14 ہیں ،جبکہ ایک مسجد میں 4سال سے جمعۃ المبارک ادا کیا جارہا ہے،ایک نئی مسجد میں جمعۃ المبارک دو ماہ سے ادا کیا جارہا ہے ۔لوگوں نے اعتراض کرنا شروع کر دیا کہ اس قصبے میں ہمارا جمعہ ادا نہیں ہوتا ،بلکہ ہمیں ظہر کی نماز پڑھنی چاہیے،صورت مسئولہ میں آیا جمعۃ المبارک پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نماز جمعہ کی ادائیگی کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ شہر ہو یا بڑا گاؤں ۔بڑےگاؤں سے مراد ایسی بستی ہے جس میں گلی ،کوچے ،مقامی لوگوں کی اکثر ضروریات زندگی سے متعلق چیزوں کے لیے بازار ،دکانیں، طبیب یا حکیم موجود ہوں ۔
صورت مسئولہ میں بظاہر آبادی اور شہری سہولیات کم ہیں ، اور یہاں مناسب تعلیم کا انتظام نہیں ،اور صحت کے لیے بھی کوئی قابل ذکر ہسپتال نہیں ،ڈاکخانہ کا ذکر بھی نہیں ہے ،مقدمات و نزاعات کے حل کے لیے عدالتی نظم یا تھانہ یا پولیس چوکی بھی موجود نہیں ۔ لہذا بظاہر یہ گاؤں چھوٹے دیہات کے حکم میں ہوگا اس لیے جمعہ درست نہیں ہونا چاہئے۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ کتب فقہ میں جو علامات لکھی ہیں وہ عرف بدلنے سے بدل بھی سکتی ہیں ،اور ان کی تعداد وغیرہ میں بھی فرق ہوسکتا ہے۔لہذا بہتر یہ ہے کہ اپنے قریبی علاقے کے دو سمجھ دار مفتیان کرام کو وہاں کا دورہ کروا کر ان کو تمام چیزیں بتائیں اور ان سے رائے لیں ۔
حوالہ جات
قوله :(وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني: تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق..... وفيما ذكرنا إشارة إلی أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات. ( رد المحتار : 6/3 )
وقال أبو حنيفة: المصر بلدة فيها سكك وأسواق وبها رساتيق ووال ينصف المظلوم من الظالم وعالم يرجع إليه في الحوادث. ) فتح القدير :52/2 الشاملة)
وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر ،وهو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر .ومن كان مقيما بموضع بينه وبين المصر فرجة من المزارع والمراعي نحو القلع ببخارى لا جمعة على أهل ذلك الموضع وإن كان النداء يبلغهم ،والغلوة والميل والأميال ليس بشيء هكذا في الخلاصة.هكذا روى الفقيه أبو جعفر عن أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - وهو اختيار شمس الأئمة الحلواني، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الھندیۃ :159/1 )
عندالعزیز
17ربیع الثانی 1445 ھ
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعزيز بن عبدالمتين | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


