03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیاچھوٹی آیات کےساتھ تراویح پڑھنا حضورصلی اللہ علیہ وسلم یاصحابہ سےثابت ہے؟
81706نماز کا بیانتراویح کابیان

سوال

 سوال:کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاصحابہ رضی اللہ عنہم نے پوری زندگی میں کبھی اس طریقےسےنماز  پڑھی ہےیا قرآن کی تلاوت کی ہے؟اگررسول نےنہیں پڑھی تو امت کےلیےکیاحکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نبی کریمﷺ کے زمانہ میں تراویح کی نماز مسجد میں باجماعت پڑھنے کا مستقل معمول نہیں تھا؛ لہذا صحابہ کرام کانبی کریمﷺ کے زمانے میں تراویح میں قرآن پاک کی مقدار پڑھنے کا معمول نہیں بتایا جاسکتا، البتہ حضرت عمرؓ کے بارے میں روایات موجود ہیں کہ وہ بعض قراء کو اس طور پر پڑھنے کا حکم دیتے کہ ان کے رمضان میں تین ختمِ قرآن ہوجائیں، بعض کو اس طرح کہ ان کے دو ختم ہوجائیں اور بعض کو اس طرح کہ ان کا ایک قرآن ختم ہوجائے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں تراویح کی نماز میں عمومی ماحول مختصر سورتیں پڑھنے کا نہیں تھا،البتہ چونکہ تراویح کی نماز بھی باقی نمازوں کی طرح ہی پڑھی جاتی ہے،لہذافرض قراءت کی واجب مقدار(ایک بڑی آیت یاچھوٹی تین آیتیں) اگراداء ہوجائےتوتراویح ہوجائیں گی،جیساکہ اوپرتفصیل گزرچکی ہے۔

حوالہ جات

"المبسوط للسرخسي "2 / 145:

 التراويح سنة لايجوز تركها؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم أقامها، ثم بين العذر في ترك المواظبة على أدائها بالجماعة في المسجد، وهو خشية أن تكتب علينا، ثم واظب عليها الخلفاء الراشدون -رضي الله عنهم- وقد قال النبي صلى الله عليه وسلم: «عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين من بعدي»، وأن عمر -رضي الله عنه- صلاها بالجماعة مع أجلاء الصحابة، فرضي به علي -رضي الله عنه- حتى دعا له بالخير بعد موته، كما ورد، وأمر به في عهدہ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

15/ربیع الثانی    1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب