03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمیٹی کے رکن کا مسجد کے چندہ کو ضرورت کے لیے استعمال کرنا
81644وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک بندہ مسجد کے لیے چندہ کرتا ہے ، مسجد کے کمیٹی کارکن بھی ہے ، وہ کسی کام سے بازار جاتا ہے، اسے پیسوں کی ضرورت پڑ جاتی ہے، اس کے جیب میں چندے کے پیسے ہوتے ہیں وہ اپنے پیسے گھر بھول جاتا ہے ، اب وہ یہ سوچ کر وہ چندے کے پیسے خرچ کر لیتا ہے کہ میرے پیسے ایسے بھی گھر میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ پیسے خرچ کر کے گھر میں اپنے پیسے مسجد کے چندے میں جمع کروادوں گا۔ یہ عمل جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد کے چندے کے لیے مسجد کے متولی یا مسجد کے کمیٹی کے رکن کے پاس مانت ہوتے ہیں اور امانت کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرنا یا اس میں کسی بھی قسم کا تصرف جائز نہیں۔ اگر استعمال کرے گا تو سخت گناہ ہو گا۔

حوالہ جات

قال العلامة السرخسي رحمه الله : وإذا كان عند الرجل وديعة دراهم أو دنانير، أو شيء من المكيل، أو الموزون فأنفق طائفة منهما في حاجته كان ضامنا لما أنفق منها. (اللبسوط للسرخسي: 111/1)

و في الفتاوى الفتاوى الهندية: وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه. (الفتاوى الهندية : 338/4) قال العلامة ابن نجيم: متولي الرباط إذا صرف فضل غلة الرباط في حاجة نفسه قرضا لا ينبغي له أن يفعل. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق : 275/5)

عبد الہادی

دارالافتء، جامعۃ الرشید، کراچی

21ربیع الثانی 1445 ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالهادى بن فتح جان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب