03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تلاوت کا آغاز سورت کے درمیان سے ہوتو تعوذ اور تسمیہ کا حکم
81739علم کا بیانقرآن کریم کی تعظیم اور تلاوت کا بیان

سوال

اسی کے ضمن میں ایک سوال یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت جب کسی سورت کی ابتداء سے کرتے ہیں تو تعوذ اور تسمیہ پڑھ کر کرتے ہیں،لیکن اگر سورت کے درمیان سے تلاوت کا آغاز کرنا ہو تو پھر کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر تلاوت کا آغاز کسی سورت کے درمیان سے ہو تب بھی تلاوت شروع کرنے سے پہلے تعوذ اور تسمیہ دونوں پڑھنا چاہیے۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية "(5/ 316):

إذا أراد أن يقول بسم ﷲ الرحمن الرحيم، فإن أراد افتتاح أمر لا يتعوذ، وإن أراد قراءة القرآن يتعوذ، كذا في السراجية.

وعن محمد بن مقاتل - رحمه الله تعالى - فيمن أراد قراءة سورة أو قراءة آية فعليه أن يستعيذ باللہ من الشيطان الرجيم ويتبع ذلك بسم ﷲالرحمن الرحيم".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

21/ربیع الثانی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب