| 81757 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
میرا نام فہیم الدین ہے، میں اپنے بھائی معظم بقائی کے ساتھ ایمیزون مارکیٹ پلیس پر ڈراپ شپنگ کا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں۔ ڈراپ شپنگ ایک کاروباری ماڈل ہے جس میں آپ کسی پروڈکٹ کے مالک نہیں ہوتے، لیکن پروڈکٹ کے مالک کے ساتھ معاہدے اور قانونی اجازت کی بنیاد پر پروڈکٹ کی تصاویر اور ویڈیوز شامل کر کے اسے کسٹمر کو فروخت کرتے ہیں۔ شپمنٹ، پیکنگ اور انوائس سارے کام ان معلومات کی بنیاد پر ہوتے ہیں تو آپ سپلائر کو فراہم کرتے ہیں اور پروڈکٹ کا مالک ہی اسے کسٹمر تک پہنچاتا ہے۔
میں کیسے کماؤں گا؟ میں ایمیزون سٹور پر اپنی قیمت مقرر کروں گا (جو ظاہر ہے سپلائر کی قیمت سے زیادہ ہوگی)؛ کیونکہ میں سپلائر سے پروڈکٹ کی فروخت پر کوئی کمیشن نہیں لیتا، میں اپنا منافع لگا کر پروڈکٹ کسٹمر کو بیچتا ہوں۔
یہ عام بروکر سے کیسے مختلف ہے؟ بروکر سروس میں آرڈر کی تصدیق پر ہم پہلے پروڈکٹ خریدتے ہیں اور کمیشن پر یا زیادہ ریٹ پر فروخت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں یہاں خطرہ بھی کم ہے؛ کیونکہ اگر آرڈر مسترد ہوتا ہے تو ہم معاہدے کے مطابق آرڈر سپلائر کو واپس کردیتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ڈراپ شپنگ کا رائج طریقۂ کار شرعا درست نہیں؛ اس میں آرڈر لینے والا شخص ایسی چیز بیچتا ہے جو اس کی ملکیت اور قبضہ میں نہیں ہوتی، اور شرعا کسی چیز کو ملکیت اور قبضہ سے پہلے بیچنا جائز نہیں۔
اس کا ایک متبادل جائز طریقہ یہ ہے کہ جب آپ کے پاس آرڈر آئے تو آپ آرڈر دینے والے کو اس وقت وہ چیز نہ بیچیں، بلکہ اس سے وعدہ کریں کہ میں یہ چیز تمہیں بیچ دوں گا، پھر اس کے بعد آپ وہ چیز سپلائر سے خریدیں؛ تاکہ آپ کی ملکیت آجائے۔ اس کے بعد سپلائر کے علاوہ کسی شخص کو اپنا وکیل بنائیں؛ تاکہ وہ آپ کی طرف سے قبضہ کریں اور آرڈر دینے والے کو بھیج دیں۔ مذکورہ بالا دونوں کام یعنی چیز خریدنے اور وکیل کے ذریعے اس پر قبضہ کرنے کے بعد یا تو آپ آرڈر دینے والے کو فون، وٹس ایپ، ای میل وغیرہ کے ذریعے یہ چیز بیچ دیں اور یا جب چیز اس کے پاس پہنچ جائے تو تعاطیاً بیع منعقد ہوجائے گی۔
دوسرا جائز متبادل طریقہ یہ ہے کہ آپ سپلائر کے وکیل (کمیشن ایجنٹ) کے طور پر کام کریں اور پروڈکٹ بیچنے پر ایک معلوم اجرت طے کر کے اس سے لیا کریں۔ ہر پروڈکٹ پر الگ الگ اجرت مقرر کرنا ضروری نہیں، ایک دفعہ معاہدہ کرنا بھی کافی ہے۔ اجرت میں اصل یہ ہے کہ لم سم رقم کی شکل میں طے ہو، مثلا یہ ہر پروڈکٹ بیچنے پر دس روپے، یا فلاں پروڈکٹ بیچنے پر دس روپے، فلاں پر بیس روپے ۔ اگر پروڈکٹ کی کل قیمتِ فروخت کا فیصدی حصہ (مثلا ٪10) بطورِ اجرت مقرر کریں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ اس صورت میں جب آپ کے پاس آرڈر آئے گا تو آپ آرڈر دینے والے کو اپنی چیز نہیں بیچیں گے، بلکہ سپلائر کی چیز بیچیں گے جس پر آپ اجرت یعنی کمیشن کے حق دار بنیں گے۔
حوالہ جات
سنن أبي داود (5/ 362):
عن حكيم بن حزام، قال: يا رسول الله، يأتيني الرجل فيريد مني البيع ليس عندي، أفأبتاعه له من السوق؟ فقال: "لا تبع ما ليس عندك ".
رد المحتار (6/ 63):
مطلب في أجرة الدلال، تتمة: قال في التاترخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثرة التعامل، وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
22/ربیع الثانی/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


