03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
واپڈا کے کھمبے اور تار حکومت کے لگائے ہوئے جنریٹرز کے لیے استعمال کرنا
81750جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ہمارا علاقہ ایک پسماندہ اور دور دراز بلکہ خیبر پختون خواہ کا مشکل گزار پہاڑی علاقہ ہے۔ ہمارے علاقے میں بجلی کی فراہمی کے لیے سرکاری ادارے واپڈا کی بچھائی ہوئی بجلی لائن تقریبا سات سال سے بے کار پڑی ہے، اس میں بجلی کی ترسیل مکمل بند ہوچکی ہے، بیچ بیچ میں سے تاریں اور کھمبے اتار دئیے گئے ہیں، واپڈا نے میٹر ہٹادئیے ہیں اور بغیر کسی ضروری قانونی کاروائی کے بقیہ لائن بے کار چھوڑ دی ہے۔ اب خیبر پختون خواہ کی حکومت نے کسی نجی تنظیم کی معاونت سے علاقائی سطح پر چھوٹے چھوٹے جنریٹر لگائے ہیں جو پانی کی مدد سے چلتے ہیں، ان سے کچھ بجلی پیدا ہوتی ہے اور کسی نہ کسی درجے میں علاقائی ضروریات پوری کرتی ہے۔ مقامی لوگوں نے بجلی کی ترسیل کے لیے واپڈا کی اجازت کے بغیر واپڈا کی بچھائی ہوئی اسی معطل سپلائی لائن سے کھمبے اور تار اتار کر اپنے لیے پانی کے جنریٹرز سے بجلی لگالی ہے۔ جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ یہ اسی علاقے کے لیے مختص تھے، لیکن ان سے اہلِ علاقہ کو کوئی فائدہ نہیں تھا اور لائن بھی ناکارہ اور معطل تھی؛ اس لیے اگر سب لوگوں نے اتفاقِ رائے سے ان کھمبوں اور تاروں کو بغیر پوچھے حکومت ہی کے مہیا کردہ جنریٹرز سے بجلی کی ترسیل کے لیے استعمال کرلیا تو اس میں کیا حرج ہے؟

پوچھنا یہ ہے کہ کیا واپڈا کی اجازت کے بغیر ان تاروں اور کھمبوں کو اسی محلے کے لوگوں کا استعمال کرنا درست ہے؟ اگر درست نہیں تو متعلقہ محکمہ کی اجازت کے بعد اس کا استعمال جائز ہوگا؟ عدمِ جواز کی صورت میں اگر پورے محلے میں اسی بجلی کا استعمال ہو، اس کے علاوہ کوئی بندوبست نہ ہوسکے تو اس کا استعمال درست ہوگا یا نہیں؟ اگر کوئی صورت بن سکتی ہے تو راہنمائی فرمادیجیے۔  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اصل طریقہ تو بہر حال یہی تھا کہ واپڈا کی اجازت سے یہ کام کیا جاتا، تاہم اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیلات درست ہیں تو چونکہ بجلی شہریوں کا بنیادی انسانی حق ہے جس کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے واپڈا کی بچھائی ہوئی لائن میں بجلی نہ آنے کی وجہ سے پانی کے جنریٹر لگانے کی صورت میں لوگوں کے گھروں تک بجلی پہنچانے کا انتظام کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی، اگر حکومت نے یہ انتظام نہیں کیا تو بجلی گھروں تک پہنچانے کے لیے یہ تار اور کھمبے استعمال کرنے کو ناجائز نہیں کہا جائے گا۔ حکومت کا میٹر اتار کر اس لائن کو بے کار چھوڑنے اور پانی کے جنریٹر سے بجلی پہنچانے کا انتظام نہ کرنے کو دلالۃً اجازت سمجھا جائے گا۔ تاہم احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اب متعلقہ محکمہ کو ساری صورتِ حال بتا کر ان کی رسمی اجازت بھی حاصل کرلی جائے۔   

حوالہ جات

المجلة (ص: 19):

مادة 32: الحاجة تنزل منزلة الضرورة، عامة أو خاصة.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

26/ربیع الثانی/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب