| 81826 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ اراضی پنج پاڑہ موضع بھنجھہ درہ لتڑا غیر پیمودہ ہے ،جوکہ تین برادریوں،بڈھا،خوب دین ،لشکری غلزہ قوم قیصرانی کے درمیان مشترک ہے ،لیکن اب لشکری غلزہ برادری کو ان کے آبائی جدی قومی زمین سے محروم کیا جارہاہے،حالانکہ تمام کاغذات اور ریکارڈ میں یہ سب برادریاں زمین میں مشترک ہیں ،زمین کے اشتراک کے کاغذات کی کاپیاں مسئلہ کے ہمراہ ہیں،اور حوالہ جات درج ذیل ہیں:۔
حوالہ نمبر 1:فیصلہ جرگہ 17/06/1903 مشمولہ/288 269
حوالہ نمبر 2:خسرہ نمبر384۔389۔386۔388 کھاتہ نمبر نمبر87 فریقین جدی ملکیت رکھتے ہیں،فیصلہ چودھری امجد علی صاحب EASO ،تاریخ فیصلہ17/07/1969
حوالہ نمبر 3: 1335ہجری کی تحریر کے مطابق غلازہ وجندانی برادری اراضی ھذا میں نصف و نصف ہیں ،تحریر میاں مراد بخش شہلانی
حوالہ نمبر 4: مورخہ 01/02/2010 کو کھاتہ نمبر 87 کو آپس میں تقسیم کیا ،لیکن خسرہ نمبر 385 اور 387 کچھی درہ والی ابھی تک مشترک ہے،جوکہ ہماری جدی ملکیت ہے اور محکمہ مال سے تصدیق شدہ ہے۔
حوالہ نمبر 5: خودہ جندانی برادری کے افراد نے بھی بطور گواہ تحریر کیا ہے کہ لشکری غلزہ برادری ہمارے ساتھ اراضی ھذا میں شریک ہیں۔
ان ثبوتوں کی بنیاد پر لشکری غلزہ برادری حق تملیک کا دعوی کرتے ہیں اور انہیں اس حق سے محروم کیا جارہاہے ،انہیں اس آبائی جدی قومی زمین سے لاتعلق کرنا شرعا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر یہ شواہد درست ہیں،اور لشکری غلزہ برادری ان زمینوں کی حقدار ہے تو ان کو زمین سے محروم کرنا اور حق نہ دینا جائز نہیں ہے۔ان شواہد کو عدالت یا ایسے جرگے، جس پر فریقین کو اعتماد ہو، میں پیش کرکے فیصلہ کیاجاسکتاہے۔ زمین پر نا حق قبضہ کرنا حرام ہے،قرآن وحدیث میں اس پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں:
قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
{يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء: 29]
ترجمہ :"اے ایمان والو!آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ،الا یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضامندی سے وجود میں آئی ہو(تو وہ جائز ہے)۔"
حدیث میں آتا ہے :
(1)۔عن يعلى بن مرة، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " أيما رجل ظلم شبرا من الأرض، كلفه الله عز وجل أن يحفره حتى يبلغ آخر سبع أرضين، ثم يطوقه إلى يوم القيامة حتى يقضى بين الناس "( مسند أحمد :29/ 111)
ترجمہ:حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :" جو شخص بالشت برابر بھی زمین کا کوئی حصہ ناحق لیتا ہے، اللہ تعالی اسے قیامت کے دن اس بات پر مجبور کرےگا کہ وہ اسے ساتویں زمین تک کھودے، پھر وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا ،یہاں تک کہ لوگوں کے
درمیان فیصلہ ہو جائے۔"
(2)۔عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يأخذ أحد شبرا من الأرض بغير حقه، إلا طوقه الله إلى سبع أرضين يوم القيامة»( الصحيح لمسلم :3/ 1231)
ترجمہ: "کو ئی شخص کسی کی ایک بالشت زمین بھی ناحق نہ لے ورنہ اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو سات زمینوں کا طوق پہنائیں گے" ۔
(3)۔قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من اقتطع أرضا ظالما لقي الله يوم القيامة وهو عليه غضبان» (مستخرج أبي عوانة:4/ 54):
ترجمہ:" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص ظلما کسی کی زمین چھین لے وہ اللہ تعالی سے قیامت کے دن اس حال
میں ملے گا کہ اللہ تعالی اس پر ناراض ہوں گے۔"
(4)۔ عن أبي مالك الأشجعي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أعظم الغلول عند الله ذراع من الأرض، تجدون الرجلين جارين في الأرض أو في الدار، فيقتطع أحدهما من حظ صاحبه ذراعا، فإذا اقتطعه طوقه من سبع أرضين إلى يوم القيامة» (مسند أحمد (29/ 334)
ترجمہ:" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ کے نزدیک سب سے بڑی خیانت زمین کے گز میں خیانت ہے، تم دیکھتے ہو کہ دو آدمی ایک زمین یا ایک گھر میں پڑوسی ہیں ، پھر ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک گز ظلما لے لیتا ہے، ایسا کرنے والے کو قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اس حصے کا طوق بنا کر گلے میں پہنایا جائے گا۔"
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
26/ربیع الثانی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


