| 81796 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
میرے اوپر بے انتہا قرضہ ہے میں اپنی تنخواہ میں سے قرضہ اتار رہا ہوں ابھی 3 افراد نے اکھٹا قرضہ مانگ لیا ہےمیں 1 کو قرضہ دے سکتا ہوں مگر باقی دو کا اصرار ہے کہ انکا قرضہ بھی واپس کیا جائے،دوحہ میں 1000 ریال کے اوپر نقد سو ریال سود دینا پڑتا ہے اگر دوحہ میں کسی سے پیسہ لیا جائے توکیا یہ جائز ہوگا؟ میرا ارادہ ہے کہ میں سود والا قرضہ لیکر باقی دوکےقرضہ کو ادا کردوں اور اسکے بعد اگلے مہینے سود والا قرضہ بھی ادا کردوں۔ میرے معاملے میں شریعت کا حکم کیا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قرض ادا کرنے کے لیے سودپر قرض لینے کی شرعا گنجائش نہیں،البتہ اگرآپ نقد قرض کے بجائے سود پر قرض دہندہ سے کوئی مال سؤال میں مذکورہ فیصد یا آپس کی رضامندی سےکسی بھی مقررہ کم وبیش فیصد کے مطابق نفع رکھ کرخریدلیں تو ایسی صورت میں مال فروخت کنندہ کو مقرر نفع کے ساتھ قیمت ادا کرنا جائز ہوجائے گا۔( پھرخواہ اصل قرض خواہوں کاقرض خود اس مال سےیا اس کےفروخت کے بعدحاصل ہونے والی قیمت ومنافع سے یا کسی بھی دوسری رقم سے ادا کیاجائے۔)
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۸ربیع الثانی۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


