03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سسرنےجعلی طلاق نامہ بنوایااور شوہرسےبیہوشی کی حالت میں دستخط کروالیاتوطلاق واقع ہوگی ؟
81831طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

سوال: میرا نکاح 17 اپریل 2023 کو ہوا تھا، میری بیوی سے خلوت بھی ہو چکی تھی، کچھ دن بعد سے میری طبعیت ایسی ہوئی کہ  غنودگی اوربیہوشی  طاری ہوناشروع ہوگئی، اپنے آپ کو مارنا پیٹنا، یہاں تک کہ  سوسائڈ کرنا، ڈاکٹر نے نیند کی ٹیبلٹس بھی لکھی ہوئی تھیں، باتیں بھول جانا، کچھ یاد نہ رہنا، یہ سب چلتا رہا۔ ایک دن میرے سسر نے اسی حالت میں ایک طلاق نامہ سادہ پیپر پر بنوا کے مجھ سے سائن لیا ،جس کی وجہ سے گھر میں بہت ادھم  اورشورشراباہوا، کیونکہ میں ہوش میں نہیں تھا، دماغ وغیرہ کچھ بھی کام نہیں کر رہا تھا، ایک طرح سے سن  تھا، اس کے دوسرے دن جو جہیز کا سامان تھا وہ اٹھا لیااور کچھ دن بعد جب میری طبعیت سیٹ ہوئی تو گھر والوں نے بتایا، کچھ یاد تھااور کچھ یاد نہیں تھا، جب میں نے اپنے سسر سے رابطہ کیا کہ ایسی طلاق نہیں ہوتی  تو انہوں نے مجھے ایس ایس پی آفس بلوایا اور ایک اسٹیمپ پیپر جمع کروایا ہوا تھا ،جو مجھے دکھایا تو اس میں میرے نام سے تحریری طلاق نامہ تھا اور میرے سائن بھی موجود تھے، جو کہ نہ میرے نام سے تھا نہ  افیڈیوٹ میں نے تحریر کروایا نہ خود کیا، مجھے اس دن ہی جھونٹے طلاق نامے کا علم ہوا اور نہ میں نےاس  کوکوئی طلاق دی، نہ ہی میں نے اس پر سائن کیا نہ مجھے کچھ یاد، اس پر گواہوں  کے بھی سائن تھے، جب ان سےمعلومات کی تو انہوں نے بھی اقرار کیا کہ آپ کے سائن ہمارے سامنے نہیں ہوئے نہ ہم نے طلاق دیتے سنا ہے آپ کو۔ یہ سامان والے دن افیڈیوٹ آیا تھا، جس میں طلاق نامہ اور سامان واپسی کا لکھا ہوا تھا تو اس بات پر ضد بحث ہوئی تھی۔ تو پتہ ہی نہیں چلاکہ تمہارے سائن کس نے کروائے یا کس نے کیے؟ چار گواہ بیان دے رہے ہیں۔معلوم یہ کرناہےکہ کیا  اس طرح  طلاق واقعی ہو جاتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں  اگرطلاق نامہ آپ نےخودنہیں لکھانہ آپنےبنوایا،نہ ہی آپ نےخوددستخط کیے،اسی طرح جس وقت سسرنےدستخط کروائے،اس وقت آپ واقعتاہوش میں نہیں تھےاوراس پرآپ قسم بھی اٹھالیں،اسی طرح دستخط سےپہلےکےدورانیہ میں آپ کابےہوش ہونالوگوں میں معروف  بھی تھا،توایسی صورت میں سسرکےجعلی طلاق نامہ بنوانےکی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،لہذاآپ کاسابقہ نکاح برقرارہے،آپ میاں بیوی   پہلےکی طرح  ازدواجی زندگی گزارسکتےہیں۔

ہاں اگرشوہرپہلےبالکل ٹھیک تھا،پہلےسےکوئی بیماری وغیرہ بھی نہیں تھی،اورنہ ہی لوگوں کوبیہوشی سےمتعلق معلوم تھا،لیکن خاص دستخظ کےوقت شوہربےہوشی کادعوی  کرتاہےتویہ دعوی قابل قبول نہ ہوگااورطلاق واقع ہوجائےگی۔

حوالہ جات

"رد المحتار "10 / 488:

مطلب في طلاق المدهوش :وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش ، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع ، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان ۔

"تنقيح الفتاوى الحامدية " 1 / 272:( سئل )في رجل حصل له دهش زال به عقله وصار لا شعور له لأمر عرض له من ذهاب ماله وقتل ابن خاله فقال في هذه الحالة يا رب أنت تشهد على أني طلقت فلانة بنت فلان يعني زوجته المخصوصة بالثلاث على أربع مذاهب المسلمين كلما حلت تحرم فهل لا يقع طلاقه ؟( الجواب ) : الدهش هو ذهاب العقل من ذهل أو وله وقد صرح في التنوير والتتارخانية وغيرهما بعدم وقوع طلاق المدهوش فعلى هذا حيث حصل للرجل دهش زال به عقله وصار لا شعور له لا يقع طلاقه والقول قوله بيمينه إن عرف منه الدهش وإن لم يعرف منه لا يقبل قوله قضاء إلا ببينة كما صرح بذلك علماء الحنفية رحمهم الله تعالى ۔

"حاشية رد المحتار" 3 / 271:

وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اه ملخصا۔

"الھندیہ" 1/353 :

ولایقع طلاق الصبی وان کان یعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمی علیہ والمدھوش ۔

"حاشية رد المحتار" 3 / 269:فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته، فما دام في حال غلبة الخلل في الاقوال والافعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها، لان هذه المعرفة والارادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

28/ربیع الثانی    1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب