| 81873 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
آج کل بازار میں ایرانی اسمگل شدہ سامان ملتا ہے تو اسکی خرید و فروخت اور اسکا کاروبار کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسمگلنگ ملکی قانون کی خلاف ورزی اور گناہ ہے،نیز اسمگلنگ کر نے والے نے جتنا ٹیکس بچایا ہے وہ اس کے ذمے حکومت کا قرض ہے اور اس کا ادا کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔تاہم ایسا سامان اگر بازار میں عام ملتا ہواور اس کی خریدو فروخت پر حکومت نے پابندی نہ لگائی ہو تو خریدار کے لیے اس کا خریدنا جائز ہے۔اسمگلنگ ملکی قانون کی خلاف ورزی اور گناہ ہے،نیز اسمگلنگ کر نے والے نے جتنا ٹیکس بچایا ہے وہ اس کے ذمے حکومت کا قرض ہے اور اس کا ادا کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔تاہم ایسا سامان اگر بازار میں عام ملتا ہواور اس کی خریدو فروخت پر حکومت نے پابندی نہ لگائی ہو تو خریدار کے لیے اس کا خریدنا جائز ہے۔
حوالہ جات
قال: "ولا ينبغي للسلطان أن يسعر على الناس" لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق" ولأن الثمن حق العاقد فإليه تقديره،فلا ينبغي للإمام أن يتعرض لحقه إلا إذا تعلق به دفع ضرر العامة. (الهداية في شرح بداية المبتدي:4/ 377)
كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال.(مجلة الأحكام العدلية:ص230)
ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖﵞ [النساء: 59]
طاعة أمر السلطان بمباح واجبة. (حاشية ابن عابدين :5/ 167)
عابد مجید
دارلافتاء جامعۃ الرشید کراچی
1445-05-04ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حافظ عابد علی ولد عبدالمجید | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


