03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھریلو پریشانیوں سے نجات کا وظیفہ
81293متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

میں کراچی سے ہوں، میری شادی کو پانچ سال ہوے ہیں۔ پچھلے چار پانچ سال سے میری زندگی بہت سی مشکلات کا شکار ہے ، سمجھ نہیں آ رہا کہ مشکلات ختم کیوں نہیں ہو رہیں۔ہر مشکل کو یہ سمجھ کے سہ لیتی ہوں کہ شاید اسی کے بعدآسانی ہو، اللہ کی رضا سمجھ کے چپ ہو جا تی ہوں۔کبھی کبھی بہت مایوس بھی ہوجاتی ہوں، ہر وقت کی سوچوں اور پریشانی سے صحت بھی بگڑتی جا رہی ہے۔ میرے میکے والے بہت دیندار تو نہیں لیکن دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے ضرور ہیں، صاف دل ہیں، کسی کا کبھی برا نہیں کیا اور نہ ہی کبھی چاہا۔امی تہجد گزار ہیں ماشاء اللہ گھر میں نماز روزہ کی پابندی کی وجہ سے ہم بہنیں بھی بچپن سے نماز روزہ کی پابند ہیں (الحمدللہ) ۔

چار سال پہلے میری بہن نے اپنی پسند کے رشتے کا اظہار گھر والوں کےسامنے کیا،  بھائی نے مارا اور پیٹاجس کی وجہ سے وہ بچپنے میں گھر چھوڑ کے چلی گئی۔ وہ کسی کے ساتھ بھاگی نہیں تھی۔ ہم گاؤں میں رہتے ہیں تو گاؤں والوں نے نا صرف بہن پہ بلکے مجھ پر بھی بہت الزام لگائے۔ اللہ جانتا ہے میں نے کسی کی طرف کبھی نظر تک اٹھا کر نہیں دیکھا، ہمیشہ نظر کی حفاظت کی، ہمیشہ یہی چاہا کہ میرے ماں باپ کو میری طرف سے کوئی پریشانی نہ آئے۔ سارے الزامات کو سہ لیا اللہ کی رضا اور آزمائش سمجھ کے۔ ہمارا جینا حرام کر دیا تھا لوگوں نے ۔میری دو سالہ منگنی ٹوٹ گئی، لڑکے نے انکار کر دیا جو کہ میری خالہ کا بیٹا تھا ۔ اس کو بھی اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کر لیا۔ بہت مشکل دن تھے لیکن گزار لیے اچھے دنوں کے انتظار میں ۔ مجھےقرآن مجید کی یہ آیت بہت زیادہ حوصلہ دیتی: ان مع العسر یسرا۔ میں نے منگنی سے پہلے بہت بار استخارہ کیا تھا امی نے بھی کیا تھا اس لیے لگا اس میں کوئی بہتری ہو گی اور صبر سے سہ لیا ۔میں نے ہمیشہ اللہ سے اچھے نمازی دیندار شوہر کی دعا کی، پہلے بھی کرتی تھی مگر اس واقعے کے بعد اور زیادہ مانگنا شروع کر دیا۔مجھے ایسا شوہر چاہیے تھا جو دین کا علم رکھتا، مجھ سے پردہ کرواتا، نماز روزے کا پابند ہوتا، تاکہ اس کے ساتھ رہ کے میں ایک دیندار گھرانے کی بنیاد رکھتی۔ بہت دعائیں کیں کہ اللہ کوئی ایسا دیدے، وظیفے اور استخارے کیے، مجھے دولت مند نہیں بلکہ حلال کمانے والا چا ہیے تھا ۔میں نے گھر والوں سے بھی یہ کہا تھا، میں دو نوافل صلوت الحاجات اچھے شوہر کے لیے تب سے پڑھ رہی ہوں۔پھر خاندان سے ایک رشتہ آیا، لڑکے کی ریپیو ٹیشن اچھی نہیں تھی، پھر بھی خاندان والوں نے مل کے رشتہ کروا دیا۔ ابو سے کہا کہ اور کوئی رشتہ نہیں ملنا، میں نے بہت روکا، ہر ممکن کوشش کی، یہ بھی کہا کہ اگر کوئی دیندار نہ ملا تو میری شادی نہ کرنا لیکن میری نہ مانی گئی۔

اس شادی سے انکار کی ایک بڑی وجہ ان کے ابو کی نوکری تھی جو کہ پولیس میں تھے اور ان کی کمائی میں حرام شامل تھا۔ میں نے حرام لقمہ کھانے سے ہمیشہ پناہ مانگی ہے۔

 اب وہ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں، لیکن اس حرام سے جو زمینیں اور جائداد بنائیں وہ تو حرام ہی ہیں، کیا اس گھر سے مجبوری میں کھانے پر مجھے گناہ ہو گا؟ حالانکہ میں نے بہت کوشش کی اس سے بچنے کی لیکن میں مجبور ہوں۔میرا نکاح کردیا گیا، میں نے استخارہ بھی کیا اور امید تھی کہ اللہ خود ہی کوئی رکاوٹ ڈال دیں گے ۔نکاح کے بعد میں نے اسے بھی اللہ کا فیصلہ سمجھا اور رضا وبہتری سمجھ کر قبول کر لیا اور دل سے اس رشتے کو قبول کیا۔ اس کے بعد بھی بہت سی پریشانیاں آئیں، اس رشتے کو لے کر سب سہتی گئی، اچھے دنوں کے انتظار میں دعائیں کرتی رہی ۔پھراسی دوران میں بہت بیمار ہو گئی، پتہ چلا کہ بچے دانی میں رسولی ہے، میں دعائیں کرتی رہی اور وظائف بھی بہت کیے۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ شادی کر دیں، پھر شادی ہوئی لیکن پھر مشکلات کم ہونے کی بجائے اور بڑھ گئیں۔ مجھے پتہ چلا کہ میرے شوہر  کی لڑکیوں سے دوستی اور نا جائز تعلقات  ہیں، چرس کا نشہ کرتے ہیں، ہر وقت غصہ کرتے ہیں۔ نہ بولنے کا تمیز نہ نماز روزہ کا دیہان، نہ کوئی کام کرتے ہیں، میں بلکل پسند نہیں ہوں انہیں۔ انہیں ماڈرن لڑکی چا ہیے تھی جبکہ میں سادگی پسند ہوں۔وہ مجھ سے گلہ کرتے ہیں کہ میں نیل پالش نہیں لگاتی، میں نماز کی وجہ سے لگانے سے انکار کرتی ہوں لیکن وہ اس بات کو نہیں سمجھتے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ انہیں خوش رکھ سکوں لیکن وہ کبھی خوش نہیں ہوئے۔اصل میں انہیں بازار میں گھومتی لڑکیاں پسند ہیں ۔روزانہ مجھے سب کے سامنے ذلیل کرتے ہیں۔ میں ان کے لیے بھی بہت دعائیں اور وظائف کر چکی ہوں لیکن ایسے لگتا ہے کہ کوئی دعا قبول ہی نہیں ہو رہی کبھی لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہیں لیکن کس بات پر ہیں یہ علم نہیں۔لگتا ہے چار سالوں میں کوئی دعا قبول نہیں ہوئی۔

اولاد بھی نہیں ہو رہی اس کے لیے بھی کوئی وظیفہ بتا دیں۔ مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہیں۔اب برداشت نہیں ہوتا، بہت پریشان رہتی ہوں، بیمار رہنے لگی ہوں، کچھ سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں۔ شوہر کو چھوڑ دوں گی تو وہ مزید برے کاموں میں پڑ کر اپنی آخرت خراب کریں گے اور میں واپس گھر جا کر ماں باپ کو پریشان کروں گی ۔ براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ اپنے شوہر سے اچھے اخلاق سے پیش آئیں اچھے اَخلاق اَنبیاءِ کرام علیہم السلام اور نیک لوگوں کی صفات میں سے ہے۔ اچھے اخلاق رکھنے سے ایمان میں ترقی اور کمال بھی پیدا ہوتا ہے اور آخرت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خوشنودی اور ساتھ بھی نصیب ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ہے: "ولَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ" (فصلت 34)

ترجمہ: اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی (ہر ایک کا اثر جدا ہےتو اب) آپ نیک برتاؤ سے (بدی کو) ٹال دیا کیجیے، پھر یکایک آپ میں اور جس شخص میں عداوت تھی وہ ایسا ہوجائے گا جیساکوئی دلی دوست ہوتاہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا  :

"سب سے کامل ایمان والا وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔" (ترمذی)

ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"قیامت کے دن تم میں سے میرا سب سے زیادہ محبوب اور میرے سب سے زیادہ نزدیک وہ شخص ہوگا جس کے اَخلاق اچھے ہوں۔" (ترمذی)

نیز اپنے شوہر کی خوب خدمت کریں، گھر آنے کے وقت سے پہلے ہی اپنے شوہر کے لیے بتکلف بناؤ سنگھار کرکے تیار رہیں، اور گھر آتے ہی ان کا گرم جوشی اور نرم اخلاق سے استقبال کریں، موسم کے لحاظ سے گرم یا ٹھنڈا مشروب پیش کریں، ان کے استعمال کی چیزوں کو مقررہ جگہ پر سلیقہ سے رکھیں۔ اور یہ سارے کام خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کریں اور اُسی سے ثواب کی امید رکھیں، اور شوہر سے اس کے بدلہ میں کوئی توقع نہ کریں۔ شوہر کی ناقدری اور ناشکری نہ کریں۔ شوہر سے ہرگز غصہ سے بات نہ کریں۔ جب بات کرنا ہو تو بتکلف  چہرہ پر شگفتگی، لبوں پر تبسم اور لہجہ میں نرمی ہو۔ شوہر کے مزاج کے خلاف کوئی بات نہ کریں۔

مزید یہ کہ شوہر کا دل نرم کرنے کے لیے "بسم اللّٰه الرحمن الرحيم" سات مرتبہ پڑھ کر پانی پر دَم کریں اور جب کھانا پکائیں تو اسی پانی سے پکائیں اور پینے کے پانی پر بھی دَم کریں، ان شاء اللہ شوہر کا دل نرم ہوجائے گا اور گھر رحمت بن جائے گا۔

حصول الاد کے لیے ہر نماز کے بعد سات مرتبہ درج ذیل دعا کا اہتمام کریں، اللہ کی ذات سے قوی امید ہے کہ وہ آپ کو اولاد کی نعمت عطا فرمائے گا:

﴿ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وّ أَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ﴾ 

ترجمہ: اے رب، نہ چھوڑ مجھ کو اکیلا اور تو ہے سب سے بہتر وارث۔

شوہر حرام کماتا ہو تو اس کی بیوی کے لیے یہ حکم ہے کہ شوہر سے حرام ذریعۂ آمدن چھڑانے کی پوری کوشش کرتی رہے، پوری  کوشش کے باوجود اگر وہ نہ چھوڑے تو  اگر بیوی کے لیے جائز  طریقے سے اپنے اخراجات برداشت کرنا ممکن ہو تو اس صورت میں بیوی کے لیے اپنے شوہر کے مال سے کھانا جائز نہیں اور اگر اپنے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں اپنے شوہر کے مال سے کھانا جائز ہے، حرام کھانے اور کھلانے کا گناہ شوہر پر ہوگا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (43/ 334):

"آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل ، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه ، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها"

شرح الأربعين النووية في الأحاديث الصحيحة النبوية (ص: 19، بترقيم الشاملة آليا):

" وقوله: " وخالق الناس بخلق حسن " معناه عامل الناس بما تحب أن يعاملوك به واعلم " أن أثقل ما يوضع في الميزان الخلق الحسن " . وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن أحبكم إلي وأقربكم مني مجلساً يوم القيامة أحاسنكم أخلاقاً " وحسن الخلق من صفات النبيين والمرسلين وخيار المؤمنين لا يجزون بالسيئة، بل يعفون ويصفحون ويحسنون مع الإساءة إليهم"

المسند للإمام أحمد بن حنبل (2/ 262):

"حدثنا يحيى بن سعيد ويعلى قال حدثنا يحيى عن بشير بن يسار عن حصين بن محصن أن عمة له أتت النبي صلى الله عليه وسلم في حاجة ففرغت من حاجتها فقال لها: أذات زوج أنت قالت نعم قال: فأين أنت منه قال يعلى فكيف أنت له قالت ما آلوه إلا ما عجزت عنه قال انظري أين أنت منه فإنه جنتك ونارك"

احمد الر حمٰن

دار الافتاء، جامعۃ الرشید کراچی

25/صفر الخیر/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احمد الرحمن بن محمد مستمر خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب