03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پرانی قیمت پر خریدے گئے مال کوذخیرہ کرکے نئی قیمت پر فروخت کرنا
81901جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

میری ایک کمپنی ہے، بلال انٹر پرائز کے نام سے، ہمارا کام میڈیسن کا ہے،مسٔلہ یہ ہے کہ کمپنی اپنی دوا کو مارکیٹ سے شاٹ کر دیتی ہے ،شاٹ ہونے سے پہلے ہم مال اسٹاک کرلیتے ہیں، پھر کمپنی کا نیا ریٹ آتا ہے ،مثلا پرانا ریٹ 100 اور نیا ریٹ 130 روپے،تو ہم مارکیٹ میں نئےریٹ سے کچھ کم میں بیچتے ہیں، مثلا 120 روپے میں، یہ خریدو فروخت کیسی ہیں؟ کہیں یہ عمل سود کے زمرے میں تو نہیں آتا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ایسی دوا کے اسٹاک کو جو بازار میں دستیاب نہ ہو اس نیت سے روکے رکھنا کہ قیمت بڑھنے پر فروخت کریں گے ذخیرہ اندوزی کے حکم میں ہے جو شرعا ممنوع اورکبیرہ گناہ ہے،البتہ عام حالات میں اپنی ملک میں موجود اشیاء کو انسان جس قیمت پر اورجس وقت بیچنا چاہے بیچ سکتا ہے،تاہم کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھاکر کوئی چیز مارکیٹ ریٹ سے  بہت زیادہ پر فروخت کرنا شرعا واخلاقا پسندیدہ نہیں ہے۔

حوالہ جات

"بحوث فی قضایا فقھیة معاصرۃْ" (13/1):

"وللبائع ان یبیع بضاعتہ بما شاء من ثمن، ولا یجب علیہ ان یبیعھا بسعر السوق دائما".

"البحر الرائق " (8/ 230):

"قال - رحمه ﷲ -: (ولا يسعر السلطان إلا أن يتعدى أرباب الطعام عن القيمة تعديا فاحشا) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا تسعروا فإن ﷲ هو المسعر القابض الباسط الرازق» ولأن الثمن حق البائع وكان إليه تقديره فلا ينبغي للإمام أن يتعرض لحقه إلا إذا كان أرباب الطعام يحتكرون على المسلمين ويتعدون في القيمة تعديا فاحشا وعجز السلطان عن منعه إلا بالتسعير بمشاورة أهل الرأي والنظر..... والغبن الفاحش هو أن يبيعه بضعف قيمته".

"بدائع الصنائع " (5/ 129):

"ويكره الاحتكار.....

ثم الاحتكار يجري في كل ما يضر بالعامة عند أبي يوسف - رحمه الله - قوتا كان أو لا وعند محمد - رحمه الله - لا يجري الاحتكار إلا في قوت الناس وعلف الدواب من الحنطة والشعير والتبن والقت.

(وجه) قول محمد - رحمه الله - أن الضرر في الأعم الأغلب إنما يلحق العامة بحبس القوت والعلف فلا يتحقق الاحتكار إلا به (وجه) قول أبي يوسف - رحمه الله - إن الكراهة لمكان الإضرار بالعامة وهذا لا يختص بالقوت والعلف".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

10/جمادی الاولی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب