03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
محض دل کے ارادے اور نیت سے قسم منعقد نہیں ہوتی
81953قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

ایک شخص نے کوئی ایسا کام کیا ہے جو کفر نہیں ہے(بلکہ گناہ بھی نہیں ہے) لیکن اس شخص کو ایسا لگا کہ یہ کام کرنا کفر ہے اور اس نے تجدید ایمان کر لیا اور اللہ سے وعدہ کیا کہ میں یہ کام نہیں کروں گا، لیکن دل میں نیت یہ تھی کہ اگر میں نے یہ کام کیا تو میں کافر ہو جاؤں، وعدہ تو اس نے اللہ سے منہ سے کہہ کر کیا ،لیکن کفر والی بات اس نے منہ سے نہیں کہی ،بلکہ صرف دل میں ہی نیت تھی اور اس طرح کا کام اس نے چھ سے سات مرتبہ کیا ہے، لیکن منہ سے اس نے کفر والی بات نہیں کہی ،صرف دل میں ہی نیت تھی اور ان چھ سات کاموں میں سے ایک دو کام ایسے ہیں جن پر اسے شک ہو رہا ہے کہ کفر کی نیت اس نے ان کاموں پر بھی کی ہے ،لیکن پکا یقین نہیں ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ جن کاموں کے نہ کرنے کا اس نے اللہ سے وعدہ کیا تھا اور کفر کی نیت دل میں ہی کی تھی،اگر یہ شخص  وہ کام کر لے تو اسلام سے خارج تو نہیں ہوگا ؟ اور جن کاموں پر اسے شک ہو رہا ہے اس کا کیا ہوگا؟ اور اسے یہ شک بھی ہو رہا ہے کہ اس کے دل میں کفر کی نیت اس وجہ سے تھی کیونکہ اس کو یہ کام کرنا کفر لگ رہا تھا(جبکہ اس کام کے کرنے سے گناہ بھی نہیں ملتا) اور یہ سارا مسئلہ اس وجہ سے ہوا کہ اس کو بار بار وسوسے آرہے تھے کہ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو تجدید ایمان نہیں ہوگا اور آخر میں یہ ضرور بتا دیں کہ اس نے جن کاموں میں کفر کی نیت صرف دل میں کی تھی وہ سارے کام کر لے تو کافر تو نہیں ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی کام کے کرنے پر کفر کو معلق کرنا قسم کے زمرے میں آتا ہے،لیکن قسم کے انعقاد کے لئے قسمیہ جملوں کا زبان سے تلفظ ضروری ہے،محض دل کی نیت اور اداردے سے قسم منعقد نہیں ہوتی،چونکہ آپ نے یہ جملے زبان سے نہیں بولے،بلکہ صرف دل میں ان باتوں کا خیال اور وسوسہ آیا تھا،اس لئے آپ کی قسمیں منعقد نہیں ہوئیں اور مذکورہ کاموں کی وجہ سے آپ دائرہ اسلام سے خارج بھی نہیں ہوئے۔

حوالہ جات

"صحيح البخاري" (7/ 46):

"عن أبي هريرة رضي ﷲ عنه، عن النبي صلى ﷲ عليه وسلم قال: «إن ﷲ تجاوز عن أمتي ما حدثت به أنفسها، ما لم تعمل أو تتكلم» قال قتادة: «إذا طلق في نفسه فليس بشيء»".

"شرح القسطلاني " (8/ 147):

"(إن ﷲ تجاوز عن أمتي ما حدّثت به أنفسها) بالنصب على المفعولية يقال: حدّثت نفسي بكذا أو بالرفع على الفاعلية يقال: حدّثتني نفسي بكذا (ما لم تعمل) في العمليات (أو تتكلم) في القوليات (وقال قتادة) فيما وصله عبد الرزاق (إذا طلق) امرأته سرًّا (في نفسه فليس) طلاق ذلك (بشيء)".

"الدر المختار " (3/ 704):

"وشرطها الإسلام والتكليف وإمكان البر. وحكمها البر أو الكفارة. وركنها اللفظ المستعمل فيها".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

11/جمادی الاولی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب