| 81941 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اعجاز صاحب (عمر۶۳ سال) اور زوجہ اعجاز (عمر۵۵ سال) کی اپنی اولاد نہ تھی اور انہوں (زوجین) نے زوجہ اعجاز کے بھائی کی بیٹی کو بطور منہ بولی بیٹی لیا اور پرورش کی۔ گود لیتے وقت منہ بولی بیٹی کی عمر بمشکل ایک ماہ تھی اور اب اس کی عمر تقریبا ۲۶ سال ہے۔ اعجاز صاحب نے بیٹی کی پرورش پر خرچ کیا اور بالاخر اس کی شادی اعجاز صاحب کے بھانجے سے ہوئی۔ منہ بولی بیٹی کو گود لینے سے اب تک اعجاز صاحب اور ان کی زوجہ کے تعلقات کبھی اچھے نہ رہے۔ بیشتر زندگی میاں بیوی نے ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے، باہمی بے رخی اور عدم توجہی کے ساتھ گزاری۔ اس وجہ سے منہ بولی بیٹی کا رشتہ بھی رفتہ رفتہ پھیکا پڑنے لگا۔منہ بولی بیٹی کی شادی کے کچھ مہینے بعد اعجاز صاحب نے زوجہ کو گھریلو ناچاقی (کھانا لانے میں نہایت تاخیر) پر تشدد کا نشانہ بنایا، گالیاں نکالیں اور شدید جھگڑا کیا ( ۲۳ جون ۲۰۲۳)۔ اس موقع پر خاندان کے دیگر افراد کے علاوہ منہ بولی بیٹی بھی موجود تھی جس نے بچ بچاؤ کی کوشش کی تو اس کے ساتھ بھی جھگڑا ہوا۔ سابقہ زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے اور اب زوجہ کی جان کو خطرے کے پیش نظر خاندان کے بڑوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بقیہ زندگی میں زوجین الگ الگ رہیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا ان دونوں کے لیے طلاق کے بغیر الگ الگ رہنا شرعا زیادہ بہتر ہے؟ یا زوجہ اعجاز کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ طلاق کا مطالبہ کرے؟ اور اگر پیسے کے عوض اعجاز صاحب طلاق دینے پر راضی ہوں تو وہ زیادہ سے زیادہ کتنی رقم کا مطالبہ کرسکتے ہیں؟ یاد رہے کہ تشدد کے واقعے سے اب تک کے معروضی حالات کے پیش نظر یہ واضح ہے کہ بقیہ زندگی میں زوجین کا دوبارہ ساتھ رہنا ناممکن ہے۔
نوٹ: مذکورہ بالا تحریر سوال کی حتمی شکل ہے۔ جبکہ سوال کی اولین شکل کو حسان صادق نے بروز ۲۶ اگست ۲۰۲۳ کو قلمبند کیا، پھر تینوں فریقین کو فردا فردا بھیجااور تحریری طور پر سوال کے الفاظ پر اعتراضات، یا کسی خلاف واقعہ شے کی نشاندہی کرنے کا کہا گیا۔ تینوں فریقین کی جانب سے اپنے اعتراضات جمع کروائے گئے۔ ان میں سے جو مبنی برحق تھے، ان کی روشنی میں سوال کی تحریر میں کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور بعض عبارات کو یکسر بدلا گیا ہے۔ اسی طرح پچھلے سالوں کے غیر معمولی طویل واقعات کو نقل نہیں کیا گیا، کیونکہ وگرنہ ہر فریق کے پاس ایک نہ ختم ہونے والے واقعات تھے، جو ایک کتاب کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ (صرف اس پر اکتفا کیا گیا کہ بیشتر زندگی میاں بیوی نے ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے، باہمی بے رخی اور عدم توجہی کے ساتھ گزاری) اولین تحریراور ہر فریق کی جانب سے اس پر کیے گئے تحریری اعتراضات اور مذکورہ بالا حتمی تحریر، یہ تینوں ثبوت کے طور پر موجود رہیں گے۔ جبکہ دارالافتاء میں مذکورہ بالا حتمی تحریر کو بھیجا جارہا ہے اور وہاں کے مفتیان کرام کو اختیار ہے کہ چاہیں تو تمام فریقین کے موقف کو روبرو سننے کےلیے دارالافتاء بھی بلا سکتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت مطہرہ میں میاں بیوی کے تعلقات بڑی اہمیت کے حامل ہیں ، میاں بیوی کے درمیان اختلاف و نا چاقی سے صرف دو افراد کارشتہ ختم نہیں ہوتا بلکہ دو خاندان اجڑ جاتے ہیں بلکہ بسااوقات کئی خاندانوں کو جنگ و جدل میں دھکیل دیتا ہے۔ اس لیے شریعت مطہرہ میاں بیوی کے تعلقات کی بحالی پر انتہائی زور دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ جس قدر ہو سکے رشتہ کو بر قرار رکھنے کی کوشش کی جائے، لیکن اگر نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے اور دونوں میاں بیوی کو ڈر ہو کہ وہ اللہ کے حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو انتہائی ناگزیر صورت میں علیحدگی کا حکم دیتا ہے۔
صورت مسئولہ میں سائل کے بیان کے مطابق چونکہ میاں بیوی نے زندگی کا ایک بڑا حصہ اکھٹے رہ کر گزارا ہے اور اب کچھ اختلافات کی وجہ سے نباہ نہیں ہو پارہا۔میاں بیوی چونکہ دونوں بوڑھے ہیں اس لیے بہتر ہوگا کہ جس قدر ممکن ہوسکے نکاح برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے۔اس لیے اگر میاں بیوی الگ رہیں اور کچھ عرصہ کے لیے اختلاط سے بالکلیہ احتراز کرے یا پھر ایک دوسرے کے حقوق واجبہ معاف کرکےالگ رہائش اختیار کرلیں ،تو امید ہے کہ دونوں اپنی غلطیوں پر نظر ثانی کر لیں گے اور اس پیرانہ سالی میں ایک دوسرے کے لیےسہارا بن سکیں گے۔ لیکن اگر اس تجربہ کے بعد بھی دونوں کے لیے باہم زندگی گزارنا مشکل ہو تو تو ناگزیر صورت میں شوہر کو طلاق دینے کا بھی اختیارہے،اسی طرح عورت بھی شوہر سے خلع یا طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے ۔تاہم خاندان کے بڑوں کو معروضی حالات اور مستقبل کے خطرات کو پیش نظر جو صورت مناسب لگے اس کو اختیار کیا جاسکتاہے۔
اسی طرح اگر شوہر اپنی بیوی کےحقوق ادانہ کرتا ہو اور ان کی ادائیگی میں کوتاہی برتتا ہو اور شوہر کی طرف سے بیوی کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہو تو بیوی خلع یا طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے ، البتہ بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنا جائز نہیں اور حدیث شریف کے مطابق ایسی عورت پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے، جو بغیر کسی وجہ کے طلاق کا مطالبہ کرے۔
اگر میاں بیوی کے در میان ناچاقی کا سبب بیوی ہو اور حقوق میں کوتاہی بیوی کی جانب سے ہو تو شوہر کے لیے بیوی کے مطالبہ پر مال کے عوض طلاق یا خلع دینا درست ہے، البتہ افضل اور بہتر یہی ہے کہ بیوی کو دیے گئے مہر سے زیادہ رقم وصول نہ کی جائے۔اوراگر میاں بیوی میں ناچاقی کا سبب شوہر ہو اور عورت کے جائز حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی شوہر کے جانب سے ہو تو ایسی صورت میں شوہر کے لیے خلع یا طلاق کے عوض میں دیا نتا کچھ لینا حلال نہیں ہے۔
حوالہ جات
وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى: {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أي لا تطلبوا الفراق). رد المحتار ط الحلبي:3/ 228)
حدَّثنا سليمانُ بنُ حرب، حدَّثنا حماد، عن أيوبَ، عن أبي قِلابةَ، عن أبي أسماءَعن ثوبانَ قال: قالَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "أيما امرأةٍ سألتْ زوجَها طلاقاً في غيرِ ما بأسٍ، فحرامٌ عليها رائحةُ الجنة"
(سنن أبي داود: 3/ 543 )
ولا يجوز للمرأة أن تطلب الطلاق من زوجها إلا إذا كان لسبب من الأسباب المعتبرة، ككونها تبغضه أو أنه يعاملها معاملة سيئة فهذا من الأسباب التي تجعل المرأة تطلب الطلاق، أما مع الوئام والاتفاق وليس هناك شيء يقتضيه ففيه هذا الوعيد الشديد الذي جاء في هذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم .
(شرح سنن أبي داود للعباد:255/3)
(وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز وإن نشزت لا) ولو منه نشوز أيضا ولو بأكثر مما أعطاها على الأوجه فتح، وصحح الشمني كراهة الزيادة، وتعبير الملتقى لا بأس به يفيد أنها تنزيهية وبه يحصل التوفيق. (رد المحتار ط الحلبي:3/ 445)
إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع ،وهذا حكم الديانة ،فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان. (الفتاوى الهندية:1/ 488)
رفیع اللہ
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
2جمادی الاولی 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رفیع اللہ غزنوی بن عبدالبصیر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


