03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مصائب جھیلنے کا اجر
82044جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرا نام ......... ہے میں الیکٹریکل انجینیئرہوں اور ایک اسلامی ملک میں ملازمت کے لیے مقیم ہوں، مئی 2023 تک میری ملازمت ایک کمپنی میں تھی جس کے لیے میں نے اپریل کے اندر ایک پاکستانی طاہر صاحب کو ملازم رکھا، مئی کے بعد میں ایک نئی کمپنی میں منتقل ہو گیا ،پرانی کمپنی کے لیے ان صاحب کو ملازمت دینے سے پہلے کمپنی کا اور طاہر صاحب کا کمپنی کے لیٹر ہیڈ پہ تحریرا اتفاق ہوا جس میں کام کے لحاظ سے کچھ اور نکات کے علاوہ درجہ ذیل دو نکات واضح طور پر شامل تھے کہ ان کی تجرباتی مدت تین مہینے ہوگی ،قانونا تجرباتی مدت کے درمیان ملازم کو وجہ بتائے بغیر برخاست کیا جا سکتا ہےاور ان کی ملازمت کی باقاعدہ ابتدا اس وقت سے ہوگی جب ان کو ڈیوٹی شروع کرنے کا کہا جائے گا ،قانونی طور پر ان کے کاغذات پرانی کمپنی کے نام 17 اپریل کو منتقل ہو چکے تھے مگر ان کو واضح طور پر بتایا گیا کہ اپ کا ملازمت کا دورانیہ یکم مئی سے شروع ہوگا جس پر انہوں نے اتفاق کیا، اس اتفاق کےمطابق تجرباتی مدت کے تین ماہ کی ابتدا یکم مئی سے ہوئی اور31 جولائی کو یہ تین ماہ پورےہوئے جیسا کہ اتفاق میں تین ماہ کا لفظ استعمال کیا گیا تھا اس دوران کمپنی نے اپنے وسائل کی کمی کی وجہ سے ان کی ملازمت کو جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا اور 31 جولائی کو ان کو برخاستگی کا نوٹس دے دیا اپنی سخت مالی دشواریوں کی وجہ سے کمپنی طاہر صاحب کو ان کی تین مہینے کی تنخواہ کا کچھ حصہ دے پائی اور باقی کمپنی کے ذمے ہے، اس کے علاوہ اس مدت میں طاہر صاحب کو کمپنی کی طرف سے یا اس کے کسی ملازم کی طرف سے کسی طرح کی پریشانی نہیں پہنچی، نہ ہی ان کے احترام میں کوئی کمی کی گئی برخاستگی کے بعد اپس میں طے شدہ تحریری اتفاق کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے اس ملک کے لیبر قوانین کے کچھ نکات کو سامنے رکھتے ہوئے طاہر صاحب نے برخواستگی کےطریقہ کار کو غلط قرار دیا اور عدالت کے ذریعے معاملہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، اس ملک کے لیبر قانون کے وہ نکات یہ ہیں:

١۔تجرباتی مدت 90 دن ہوگی (اس ملک کے لیبر قانون میں یہ زیادہ سےزیادہ 180دن تھی جسے طاہر صاحب کی درخواست پرعدالت کی طرف سے 90 دن کیا گیا(جبکہ مذکورتحریری معاہدہ میں 90دن کے بجائے تین مہینے کا لفظ ہے)

۲۔ اس ملک کے لیبر قانون کا یہ معاہدہ اس سے پہلے ہونے والے کمپنی اور ملازم کے تمام معاہدوں کو کینسل کر دے گا(جس میں تین مہینے کالفظ ہے)اس ملک کی عدالت میں ان نکات کو ہمارے خلاف پوری طرح سے استعمال کرنے کے لیے پہلے طاہر صاحب نے اپنی ملازمت کی ابتدا کو 17 اپریل بتایا جو کہ صریحا غلط بیانی پر مبنی تھا اور جسے ہم نے عدالت کو ممکنہ ثبوت دے کر ثابت کیا کہ ان کی ملازمت یکم مئی سے شروع ہوئی ہےاور دوسرے نمبر پہ انہوں نے عدالت کو بھرپور طریقے سے یہ باور کروایا کہ اس ملک کے لیبر قانون کی شق نمبر سات کے مطابق پہلے تمام ایگریمنٹ کینسل ہو جاتے ہیں اس لیے اس لیبر قانون کے معاہدے سے پہلے اس کمپنی کے ساتھ میرے کسی بھی زبانی یا تحریری اتفاق(جس میں تین ماہ کالفظ ہے) کی کوئی اہمیت نہیں ہے جوحقیقتا دونوں فریقین کی باہمی رضا بندی سے طے پایا تھا،اس ملک کی عدالت نے اپنے لیبر قانون کے مطابق باہمی رضامندی والے معاہدے(جس میں تین ماہ کالفظ ہے) کو کینسل تصور کرتے ہوئے تجرباتی مدت کو تین مہینے کی بجائے 90 دن کا شمار کیا اور کہا کہ اگر ملازمت کی ابتدا یکم مئی سے بھی تصور کی جائےجیسے کمپنی کہتی ہے توبھی 31 جولائی کو 92 دن ہوتے ہیں جو کہ اس ملک کے لیبر قانون کی مخالفت ہے تو اس طرح سے تجرباتی مدت کے بعد ایک مہینے کا نوٹس دیے بغیر ملازم کو برخاست کرنا خلاف قانون ہے اور  ہماری پرانی کمپنی کو کہا گیا اس کہ تقریبا چھپن ہزار ڈالرجو پاکستانی کرنسی میں ایک کڑوڑ ساٹھ لاکھ بنتے ہیں جرمانے کے طور پر طاہر صاحب کو ادا کرے یقینا اس ملک کے لیبر قانون کا یہ حصہ وہاں کام کرنے والوں کو ظلم وزیادتی سے تحفظ دینے کی ایک اچھی مثال ہے مگر طاہر صاحب کی طرف سے اس کا قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہماری ایک بہت چھوٹی غلطی (صرف دو دن کے فرق پر مبنی ہے) کو سبب بناتے ہوئے ایک بہت بڑی رقم وصول کرنے کی کوشش ہے جو شرعی طور پر اوراخلاقی طور پر کسی بھی طرح ان کا حق نہیں بنتا حقیقتا ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی ہے بلکہ ان کو طے شدہ اتفاق کے مطابق برخاست کیا گیاہے،اس ملک کی عدالت کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کی تاریخ سے 35 دن کے اندر طاہر صاحب کو مذکورہ رقم ادا کرنی ہے بصورت دیگر کمپنی کے مالک اور کمپنی کے تمام بینک اکاؤنٹ بلاک ہو جائیں گے اور اس کا مالک اپنا ذاتی یا  کمپنی کے کسی بھی حصے کا کوئی ڈاکیومنٹ تجدید نہیں کروا سکتا اور اس کے علاوہ بھی مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا،میری پہلی کمپنی نے اس سب عمل کا ذمہ دار مجھے قرار دیا ہے اور یہ کہ نقصان بھی ذاتی طور پر مجھے ہی برداشت کرنا پڑے گا، میں نے بینک سے قرضہ لینے کی کوشش کی ہے کہ کسی طرح سے اس مصیبت سے نمٹا جا سکے چاہے اس قرض کو چکانے میں مجھے کئی سال ہی لگیں مگر یہاں کے قانون کے مطابق آپ کی ملازمت کم سے کم ایک سال ہو تو آپ کو قرض ملتا ہے، اس لیے قرض ملنا بھی دشوار لگ رہا ہے، جرمانے کی ادائیگی وقت پر نہ کرنے کی شکل میں پہلی کمپنی کا مالک اس کے تمام ملازم اور ان کے اہل خانہ شدید تکلیف میں مبتلا ہوتے نظر ارہے ہیں ،میں یہاں یہ بتانا بہت ضروری سمجھوں گا کہ ہماری پہلی کمپنی کے مالی حالات طاہر صاحب کو ملازم رکھنے سے پہلے سے ہی کافی خراب ہونا شروع ہو چکے تھے اسی وجہ سے ان کو پوری تنخواہ کی ادائیگی نہ کی جا سکی ان کے بقایہ جات اور دوسرے ملازمین کے بہت سارے بقایا جات کمپنی پر واجب الادا ہیں جن کو کمپنی تھوڑا تھوڑا کر کے ادا کر رہی ہےجتنی معلومات میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں میں دنیا میں اور روز قیامت پوری طرح سے ان کا ذمہ دار ہوں اور معاملے کو تفصیل کے ساتھ بتانے کا مقصد ہرگز دنیا کی کسی عدالتی کاروائی کے اندر کوئی بھی معاونت طلب کرنا نہیں ہےبلکہ انسانوں کے بنائے ہوئے نظام اور قوانین سے ہٹ کر میں صرف اور صرف اللہ کے نظام کے مطابق یہ جاننا چاہتا ہوں کہ

١۔ بڑی مصیبت کو جھیلنے والے کا اس دنیا میں اور قیامت یعنی اخرت کی زندگی میں اللہ کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا؟

۲۔ دوسرے کو مصیبت میں ڈالنے کا سبب بننے والے کا اس دنیا میں اور قیامت یعنی آخرت کی زندگی میں کیا معاملہ ہوگا؟

۳۔کسی تجارتی کاروباری معاملے میں دو فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے ہونے والے معاہدے کی اللہ کے ہاں کیا اہمیت ہے؟

۴۔کیا روز ِمحشر  فیصلے کسی اسلامی ملک کے قانون کے مطابق ہوں گے یا اللہ کے قانون کے مطابق ہوں گے؟

۵۔ کسی ملک کے قانون کا غلط استعمال کر کے لوگوں کے لیے بہت بڑی تکلیف کا سبب بننے کے کا ذمہ دار وہ ملک ہوگا یا اس کو کرنے والا انسان ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

١۔جسے اللہ تعالیٰ مختلف مصائب اور آزمائشوں میں مبتلا کرے لیکن وہ "انا للہ وانا الیہ راجعون "پڑھے، صبر سے کام لے  اور آزمائش کے باوجود اللہ تعالیٰ کے متعلق گمان اچھا رکھےتو صبر اور مصیبت کے مطابق وہ ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے،اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر آزمائش ناراضی کی وجہ سے نہیں ڈالتا بلکہ یا تو مکروہ چیز کو دور کرنے کے لیے یا گناہوں کے کفارے کے لیے اور یا مرتبہ بلند کرنے کے لیے آزماتا ہے اور بندہ جب خوشی خوشی اسے قبول کرلیتا ہے تو یہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے،ایک حدیث میں آتاہے کہ''بڑا ثواب، بڑی آزمائش کے ساتھ ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو کسی آزمائش میں ڈال دیتا ہے، جو اس آزمائش پر راضی ہوا (اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط گمان نہ رکھا) تو اس کے لیے رضا ہے اور جو آزمائش پر ناراض ہو (صبر کی بجائے غلط شکوے اور گمان کیے) تو اس کے لیے ناراضی ہے''

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"اور ضرور آزمائیں گے ہم تمہیں کسی قدر خوف اوربھوک سے اور (مبتلا کرکے) نقصان میں مال وجان کے اور آمدنیوں کے اور خوش خبری دو صبر کرنے والوں کو، وہ (صبر کرنے والے) کہ جب پہنچتی ہے، اْنہیں کوئی مصیبت ،تو کہتے ہیں، بے شک ،ہم اللہ ہی کے ہیں اوربے شک ،ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، (دراصل) یہی وہ لوگ ہیں کہ اْن پر ہیں عنایتیں اْن کے رب کی اور رحمتیں بھی اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں" (سورۃ البقرہ، ۱۵۵تا۱۵۷)

 ان آیات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو متنبہ فرمایا ہے کہ اسے مختلف چیزوں کے ذریعے ضرور بالضرور آزمایا جائے گا اور جو ان آزمائشوں پر صبر کرتے ہوئے پورا اترے گا،اسے رحمت و مغفرت کی بشارت دی گئی ہے۔

احادیثِ مبارکہ کے مطابق تکلیفوں پر صبر ثواب میں اضافے کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا بھی ذریعہ ہے،مصیبت پر صبرکرنے کے حوالے سے کنز العمال میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ

"تحقیق لوح محفوظ میں پہلی چیز جو کہ اللہ تعالیٰ نے لکھی ہے، وہ یہ ہے،بسم اللہ الرحمن الرحیم اوربے شک، میں ہی معبود ہوں، میرے سوا کوئی حاجت روا نہیں ، میرا کوئی شریک نہیں، جس نے میرے فیصلے کو مان لیااور میری دی ہوئی مصیبت پر صبر کیا اور میرے حکم پر راضی رہا ،میں اسے اپنے یہاں صدیق لکھ دیتا ہوں اور اسے قیامت کے دن صدیقوں میں اٹھاؤں گا‘‘۔

حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺسے دریافت کیا گیا کہ مصائب وشدائد میں سب سے زیادہ کون ہوتے ہیں؟ 

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ مصائب وشدائد میں انبیاء ہوتے ہیں، پھر اس کے بعد درجہ بہ درجہ دوسرے افضل لوگ، آدمی کی اس کی دین داری کے لحاظ سے آزمائش ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت ہوتا ہے تو اس کی آزمائش بھی سخت ورنہ ہلکی، آدمی پر مصائب کاسلسلہ اس وقت تک رہتا ہے کہ وہ روئے زمین پر بغیر گناہ چلتا ہے (یعنی مصائب کی وجہ سے اس کے سارے گناہ دھل جاتے ہیں)۔(مشکوٰۃ شریف ۱۳۶)

مصائب وآلام کے دردکو دور کرنے اور ان مصائب وپریشانیوں کے بادلوں سے لطفِ خداوندی اور عنایاتِ ایزدی کی بارش کے متلاشی کے لیے یہ بھی ایک آسان نسخہ ہے کہ وہ بیماریوں، پریشانیوں، تنگیوں وتنگ دستیوں میں اجرِ خداوندی، ثوابِ آخرت، گناہوں اور خطاوٴں سے پاکی کی بشارتوں کو بھی پیش نظر رکھے، اس طرح اس کے مصائب اس کے لیے ایمان ویقین کی تازگی، فکرِ آخرت میں اضافہ اور پائے ثبات واستقامت میں مضبوطی کا باعث ہوں گے۔

ایک حدیث میں حضورِ اکرمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:”مردِ مومن کو جو بھی دکھ درد، جو بھی بیماری وپریشانی،جو بھی رنج وغم اور جو بھی اذیت وتکلیف پہنچتی ہے، یہاں تک کہ جو کانٹا بھی اسے چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کی صفائی کردیتا ہے۔(ریاض الصالحین)ایک دوسری روایت میں ہے بندہٴ مومن کو جوبھی کانٹے وغیرہ کی تکلیف پہنچتی ہے، تو اللہ عزوجل اس طرح اس کے گناہوں کو جھاڑدیتا ہے، جیسے سوکھا درخت اپنے پتوں کو جھاڑ دیتا ہے۔(حوالہ سابق) بعض مومن مرد اور بعض مومن عورتوں پر مصائب وحوادث کبھی ان کی جان ، کبھی ان کے مال اور کبھی ان کی اولاد پر اس طرح آتے ہیں کہ (اس کے نتیجے میں ان کے گناہ جھڑجاتے ہیں) اور وہ مرنے کے بعد اللہ عزوجل سے اس حال میں ملتے ہیں کہ ان پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔(مشکوٰۃ شریف ۱۳۶)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بندہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایک مرتبے کا حامل ہوتا ہے، جسے وہ اپنے عمل کے ذریعے حاصل نہیں کرسکتا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی جان یا مال یا اس کی اولاد میں مصیبت مبتلا فرماتا ہے، پھر اسے ان مصائب پر صبر کی توفیق

دیتا ہے، پھر اسے من جانب اللہ طے شدہ مقام تک پہنچادیتا ہے۔ (مشکوٰۃ شریف ۱۳۷)

کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک بندہٴ مومن اخروی اعتبار سے ایک مقام ومرتبے کا حامل ہوتا ہے، وہ اپنی صحت مند، آرام دہ زندگی کے ساتھ اس مقام ومرتبے کی جانب اس قدر سبک روی اور تیزگامی کے ساتھ بڑھتا ہوا نہیں ہوتا، اللہ عزوجل اسے اس کے طے شدہ مقام تک پہنچانے کا سامان یوں فرماتا ہے کہ اس پر مصائب وحوادث کا بوجھ ڈال کر، اسے اندیشہ ہائے زمانہ اور غم ہائے زمانہ میں مبتلاکرکے اس کے طے شدہ مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ اسی کو رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمایا: جب بندہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایک مرتبے کا حامل ہوتا ہے، جسے وہ اپنے عمل کے ذریعے حاصل نہیں کرسکتا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی جان یا مال یا اس کی اولاد میں مصیبت مبتلا فرماتا ہے، پھر اسے ان مصائب پر صبر کی توفیق دیتا ہے، پھر اسے من جانب اللہ طے شدہ مقام تک پہنچادیتا ہے۔(مشکوٰۃ شریف ۱۳۷)

مصائب کے نعمتِ خداوندی ہونے پر یہ روایت بھی دلالت کرتی ہے:جس وقت روزِ قیامت دنیا میں مصائب برداشت کرنے والوں کو ثواب دیا جارہا ہوگا، اس روز اہلِ عافیت بھی یہ چاہیں گے کہ کاش! ان کے جسم کی کھال دنیا میں قینچیوں سے کاٹی جاتی۔(مشکوٰۃ شریف ۱۳۷) ایک روایت میں مصائب ومشکلات کے گناہوں کے ازالے میں اثر انگیزی کو بیان کرتے ہوئے حضورِ اکرمﷺ کا ارشادِ گرامی حدیثِ قدسی کی شکل میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے: میری عزت وجلال کی قسم! جس شخص کی میں مغفرت اور بخشش کاارادہ کرتا ہوں تو اس کے جسم کو بیماری میں ڈال کر اور اس کی روزی کو تنگ کرکے اس کی ہر غلطی اور گناہ کو مٹادیتا ہوں۔(مشکوٰۃ ۱۳۸)

۲۔حدیثِ مبارک میں کامل مسلمان کی  صفات میں ایک صفت یہ ذکر کی گئی ہے کہ کامل مسلمان وہی  شخص ہے جس کی زبان اور ہاتھ کی ایذاؤں سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں؛ لہذا کسی مسلمان بھائی  کو زبان، ہاتھ  یا کسی اور ذریعے سے کسی قسم کی  تکلیف دینا شرعاً جائز نہیں ہے،قیامت کے دن اس حساب دینا پڑے گا۔

لہذا مسئولہ صورت میں جب طاہر نے خودتین مہینوںکا معاہدہ کیا اورپھرکمپنی نے اسی معاہدہ کی بنیاد پر اس کو تین مہینوں کے اندراندربرخواست کیاتو اس کا ملکی قوانین کا غلط سہارالیکربذریعہ عدالت تین مہینوں کو90دنوں میں بدلنا اورکمپنی اورسابقہ ملازم کےلیے تکلف کا ذریعہ بنناناجائز،حرام اورکبیرہ گناہ ہے،اس کے تحت طاہرجوبھی رقم حاصل کرے گاوہ اس کے لیے حرام اورناجائز ہوگی اوراس کی نحوست سے وہ نہیں بچ سکے گا۔

 درست نہیں، اس سے وہ گناہ گارہوااسی طرح مذکورہ کمپنی کا یہ نقصان سابقہ ملازم پر ڈالنا بھی شرعی اعتبارسے درست نہیں ہے" لان المظلوم لایظلم غیرہ" کہ ایک مظلوم کادوسرے مظلوم پر ظلم  کرناجائزنہیں ہے۔مذکورہ معاملہ میں تو سابقہ ملازم کی کوئی غلطی بھی نہیں ہے،کیونکہ جب اس نے ملازمت سے نئے ملازم کے حق میں تنازل اختیار کرلیا اورنیا ملازم کا کمپنی کے ساتھ معاہدہ ہوگیا تو سابقہ ملازم درمیان سے نکل گیا،اب نئے ملازم اورکمپنی کے درمیان کے معاملات کا اس کوقصوروارٹھہرانا ظلم ہے۔

۳۔بلاشبہ فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سےطے  ہونے والے معاہدے کی شریعت کی نظرمیں اعتبارہے بشرطیکہ وہ شرعی قوانین کے خلاف نہ ہو۔

۴۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قیامت کے دن اللہ کے قانون کے مطابق ہونگے نہ کہ کسی ملکی قوانین کے مطابق۔

۵۔قانون اگرجائزہو تو جو بھی اس کو غلط استعمال کرے گااوراس کے ذریعے کسی کو تکلیف دے گا وہ گناہگار ہوگا،چاہے وہ کوئی ملک ہویافرد۔

حوالہ جات

{وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156) أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ } [البقرة: 155 - 157]

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إِنَّ عِظَمَ الْجَزَائِ مَعَ عِظَمِ الْبَـلَائِ، وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا اِبْتَـلَاھُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَہُ الرِّضٰی، وَمَنْ سَخِطَ فَلَہُ السُّخْطُ۔ .( أخرجہ البخاري في کتاب المرضی، باب: ما جاء في کفارۃ المرض، رقم: ۵۶۴۱، ۵۶۴۲)

عن عبد الله بن عمرو   رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه»."(صحیح البخاري(1/11) باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده1/11رقم الحدیث: دار طوق النجاة)

عن أبي صرمة رضي الله عنه مرفوعاً: «من ضارَّ مسلما ضارَّه الله، ومن شاقَّ مسلما شقَّ الله عليه(رواه أبوداود والترمذي وابن ماجه وأحمد)

قال اللہ تعالی:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} [النساء: 29]

تفسير ابن كثير ت سلامة (2/ 268)

قوله: {إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} (10) قرئ: تجارة بالرفع وبالنصب، وهو استثناء منقطع، كأنه يقول: لا تتعاطوا الأسباب المحرمة في اكتساب الأموال، لكن المتاجر  المشروعة التي تكون عن تراض من البائع والمشتري فافعلوها وتسببوا بها في تحصيل الأموال.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (7/ 22)

ولهما أن ثمنيتها في حقهما ثبتت باصطلاحهما إذ لا ولاية للغير عليهما فتبطل باصطلاحهما، وإذا بطلت الثمنية تعينت بالتعيين لصيرورتها عروضا..وأما إذا اصطلحا على كونها عروضا فهو على الأصل فيجوز وإن كان من سواهما على الثمنية.

وفی تفسير ابن كثير ت سلامة (7/ 136)

وقوله: {لمن الملك اليوم لله الواحد القهار} قد تقدم في حديث ابن عمر: أنه تعالى طوي السموات والأرض بيده، ثم يقول: أنا الملك، أنا الجبار، أنا المتكبر، أين ملوك الأرض؟ أين الجبارون؟ أين المتكبرون؟ .وفي حديث الصور: أنه تعالى إذا قبض أرواح جميع خلقه، فلم يبق سواه وحده لا شريك له، حينئذ يقول: لمن الملك اليوم؟ ثلاث مرات، ثم يجيب نفسه قائلا {لله الواحد القهار} أي: الذي هو وحده قد قهر كل شيء وغلبه  ... عن ابن عباس [رضي الله عنهما] قال: ينادي مناد بين يدي الساعة: يا أيها الناس، أتتكم الساعة. فيسمعها الأحياء والأموات، قال: وينزل الله [عز وجل]  إلى سماء الدنيا ويقول: {لمن الملك اليوم لله الواحد القهار} .وقوله: {اليوم تجزى كل نفس بما كسبت لا ظلم اليوم إن الله سريع الحساب} يخبر تعالى عن عدله في حكمه بين خلقه، أنه لا يظلم مثقال ذرة من خير ولا من شر، بل يجزي بالحسنة عشر أمثالها، وبالسيئة واحدة؛ ولهذا قال: {لا ظلم اليوم} كما ثبت في صحيح مسلم  ، عن أبي ذر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم -فيما يحكي عن ربه عز وجل-أنه قال: "يا عبادي، إني حرمت الظلم على نفسي وجعلته بينكم محرما فلا تظالموا -إلى أن قال-: يا عبادي، إنما هي أعمالكم أحصيها عليكم ثم أوفيكم إياها، فمن وجد خيرا فليحمد الله، ومن وجد غير ذلك فلا يلومن إلا نفسه"  .

وفی شرح السنة للبغوي (10/ 44)

 عن النواس بن سمعان، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق»

{إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا (10) } [الفتح: 10، 11]

{ومن یکسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا (111) وَمَنْ يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا } [النساء: 111، 112]

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

١۷/۵/۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب