| 82015 | زکوة کابیان | سونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام |
سوال
ایک بندہ کے پاس تقریبا بیس سال پرانا تین تولہ سونا ہے،یہ سونا تجارت کے لئے نہیں ہے،بلکہ ذاتی استعمال کے لئے ہے،بیوی استعمال کرتی ہے،اس بندے کا خیال یہ تھا کہ چونکہ یہ ذاتی استعمال کے لئے ہے اور سات تولے سے کم بھی ہے،اس لئے اس پر زکوة لازم نہیں ہوگی۔
اب اس کو معلوم ہوا کہ اگر ایک تولے سونے کے ساتھ کچھ نقدی بھی ہو اور ان کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو اس پر زکوة واجب ہوگی،تو کیا اس شخص کے ذمے اب گزشتہ بیس سال کی زکوة لازم ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں آپ کے ذمے گزشتہ بیس سالوں کی زکوة ادا کرنا لازم ہے،زکوة کی ادائیگی کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے ایک سال کی زکوٰۃ کا حساب لگایا جائے گا، پھر پہلی زکوۃ کی ادائیگی کے بعد جو رقم بچے اور وہ نصاب تک پہنچے، تو دوسرے سال اس مال کی زکوٰۃ نکالی جائے گی، اسی طرح دوسرے سال کی زکوة منہا کرنے کے بعد اگر بقایا رقم نصاب تک پہنچے، تو تیسرے سال اس مال کی زکوة ادا کی جائے گی، اسی طرح جتنے سالوں کی زکوة ادا نہیں کی، ان کا حساب اسی طریقے کے مطابق کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ زکوة کا شمار قمری سال کے لحاظ سے کیا جائے گا۔
حوالہ جات
"بدائع الصنائع " (2/ 7):
"وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة".
"الدر المختار " (2/ 259):
"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:" (قوله: نسبة للحول) أي الحول القمري لا الشمسي كما سيأتي متنا قبيل زكاة المال".
"الفتاوى الهندية" (1/ 175):
"(ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري كذا في القنية".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
17/جمادی الاولی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


