03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خواب کی حقیقت
82024جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

 ایک دوست دوسرے مسلک کے  ایک مشہور عالم دین کا جنازہ پڑھنے کے بعد کافی غمگین تھا،خواب میں مولانا صاحب کی زیارت ہوئی،اورفرمایا کہ پریشان کیوں ہوتے ہو،اپنے بیٹے کے بارے میں فرمایا کہ ان کا ساتھ دیں،آپ کو پلیٹ فارم بناکے تو دیا ہے ،اس طرح خواب کی اتباع کا کیا حکم ہے ؟اس میں کیا تفصیل ہے؟کیا خواب بھی حجت ہوتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی کا خواب شرعاً حجت نہیں ہے، یعنی خواب کی بنیاد پر کوئی شرعی حکم ثابت نہیں کیا جاسکتا اور ‏نہ ہی خواب اور اس کی تعبیر پر عمل کرنا یا اس کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنا شرعاً ضروری ہے۔
ہر خواب سچا اور بامعنیٰ نہیں ہوتا، بلکہ خوابوں کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں، جس کی تفصیل درج ذیل ‏ہے:‏
‏1۔ بیداری کی حالت میں انسان جو صورتیں دیکھتا ہے یا دن بھر جو کچھ سوچتا ہے، وہی صورتیں اور خیالات ‏اسے خواب میں (شکل کی صورت میں) نظر آتی ہیں۔ ان خوابوں کو "حدیث النفس" اور "انسانی خیالات" ‏کہا جاتا ہے۔

‏2۔ کبھی شیطان انسان کے ذہن میں خوشی یا غم کی کچھ صورتیں اور واقعات ڈالتا ہے، جو کہ "شیطانی ‏خیالات" کہلاتی ہیں۔ خواب کی مذکورہ دونوں قسمیں بے معنیٰ ہیں، لہذا ان کی طرف توجہ نہیں کرنا چاہیے۔
‏3۔ تیسری قسم کے وہ خواب ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور سچے اور بامعنیٰ ہوتے ہیں، یہ ‏‏"الہامات" کہلاتے ہیں اور اسی قسم کو حدیث میں نبوت کا جزء قراردیا گیا ہے، جیسا کہ ایک حدیث ‏میں ہے:‏حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ‏‏"مؤمن کا خواب نبوت کے اجزاء میں سے چھیالیسواں جز ہے"۔ (صحیح بخاری: حدیث نمبر: 6988)‏ لیکن یہ خواب بھی کوئی دلیل شرعی نہیں ہے،صرف انبیاء علیہم السلام کا خواب وحی کے حکم میں ہوتا ہے۔

یہ بات بھی قرآن و حدیث سے ثابت اور تجربات سے معلوم ہے کہ سچے خواب بعض اوقات فاسق فاجر بلکہ کافر کو بھی آسکتے ہیں، سورہ یوسف ہی میں حضرت یوسف علیہ السلام کے جیل کے دو ساتھیوں کے خواب اور ان کا سچا ہونا، اسی طرح بادشاہِ مصر کا خواب اور اس کا سچا ہونا قرآن میں مذکور ہے۔ بہرحال سچے خواب عام اُمت کے لیے حسبِ تصریحِ حدیث ایک بشارت یا تنبیہ سے زائد کوئی مقام نہیں رکھتے، نہ خود اس کے لیے کسی معاملہ میں حجت ہیں نہ دوسروں کے لیے، بعض نا واقف لوگ ایسے خواب دیکھ کر طرح طرح کے وساوس میں مبتلا ہوجاتے ہیں، کوئی ان کو اپنی ولایت کی علامت سمجھنے لگتا ہے، کوئی ان سے حاصل ہونے والی باتوں کو شرعی احکام کا درجہ دینے لگتا ہے یہ سب چیزیں بے بنیاد ہیں، خصوصاً جبکہ یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ سچے خوابوں میں بھی بکثرت نفسانی یا شیطانی یا دونوں قسم کے تصورات کی آمیزش کا احتمال ہے۔ (معارف القرآن: 5/29)

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

18/جمادی الاولی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب