| 82043 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہم پانچ بھائی تھےاورایک بہن۔(یعنی۱۔عبدالوحیدمرحوم،۲۔عبدالحفیظ،۳۔عطیہ ناہید،۴۔عبدالحق مرحوم،۵۔ وسیم مرحوم،۶۔ احسان۔)
میرے بھائی وسیم کا ابھی انتقال ہوا ہے ،وسیم کے ورثاء میں ایک بیوہ ہےاوراولاد نہیں ہے اور۲ بھائی عبدالحفیظ اور احسان اورایک بہن ہے اور جو دو بھائیوں کا انتقال ہوا ہے، ان کی اولاد ہے، ان کی وراثت یعنی ترکہ کی تقسیم کیسے ہو گی؟ اوروسیم بھائی کی بیوہ کے بھائیوں کا بھی کوئی حصہ بنتا ہے؟ اگر وسیم بھائی کی بیوہ کی مرضی سے ان کے بھائی کاروبار پر قابض ہو جائیں تو کیا وہ حلال اور جائز جو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طریقہ تقسیم وراثت یہ ہے کہ اول مرحوم کے ترکہ سے اس کےکفن وتدفین کے اخراجات ادا کئے جائیں گے، بشرطیکہ کسی وارث نے اپنی طرف سے ادا نہ کئے ہوں، اس کے بعد اس کے ذمہ واجب حقوق اگر ہوں تو ان کو ادا کیا جائے گا،( البتہ حقوق اللہ مثلا نمازوں،روزوں کا فدیہ دینے کی شرط یہ ہے کہ میت نےاپنی زندگی میں ادائیگی کی وصیت کی ہو، ورنہ ادائیگی لازم نہیں،لیکن اگر کوئی وارث اپنی ذاتی ملکیت سے ادا کردے تو یہ بھی جائز ہے)اس کے بعد اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی تک اس کو پورا کیا جائے گا۔
اس کےبعدکل ترکہ کاچوتھائی(25فیصد) بیوہ کو ملے گا، اس کے بعدبقیہ کل مال کوپانچ برابر حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، جن میں سے ہر ایک بھائی کو دو حصے(30 فیصد)جبکہ بہن کو ایک حصہ(15 فیصد) ملےگا۔
واضح رہے کہ وسیم کے جو بھائی ان کی زندگی میں فوت ہوئے ان کو حصہ نہیں ملے گا،لہذا ان کے اولاد بھی مستحق نہیں، البتہ جو بھائی وسیم کی وفات کے بعد فوت ہوئے انہیں حصہ ملے گا اور ان کا حصہ ان کی اولاد کی طرف منتقل ہوگا۔
نیزوسیم کی بیوہ کے بھائیوں کا وسیم کےترکہ میں کوئی حصہ نہیں،لہذاتقسیم سے پہلےان کا قبضہ کرنا ناجائز ہوگا،البتہ تقسیم کے بعدوہ بیوہ کا حصہ میراث اس کی مرضی واجازت سے لےسکتے ہیں،اسی طرح اگر دیگر ورثہ کی حصوں کی مارکیٹ قیمت لگاکر یا جس قیمت پر آپس میں رضامندی ہوجائے اس پر ان کو خرید کر بھی وہ اس کو حاصل کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۹جمادی الاولی ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


