021-36880325,0321-2560445

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یکجہتی کےلیے تلک لگانے کاحکم
82096جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

 اس پروگرام میں ہمارے کچھ معزز مسلم حضرات ہندو بھائیوں کے اکرام میں انہیں تلک بھی لگائیں گے نیز اگر بدلے میں ہندو بھائی مسلم حضرات کو تلک لگائیں تو ہمارے ذمہ دار اس پر بھی راضی ہیں ۔ کیا اس طرح تِلَک لگانا اور لگوا لینا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ماتھے پر تلک لگانا ہندومت کی خالصتاً مذہبی علامت ہے۔ مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ کسی دوسرے مذہب کی مذہبی علامت کو اپنائیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے:

"جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔"

 کفار کے ساتھ  مذہبی رسومات میں مشابہت اختیار کرناحرام ہے،اس لیے تلک لگانے یا لگوانے سے احتراز کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ.
(سُنن ابی داوٗد،( 4/44، حدیث : 4030)

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

21/جمادی الاولی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے