03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلع کا مسئلہ
81423طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

دار الافتاء جامعۃ الرشید سے کچھ اہم گزارشات ہیں: استفتاء کے ساتھ ملحق فتویٰ میں نے اپنی بیٹی کے خلع کیس کے حوالے سے جمع کروایا تھا ،جس کے جواب میں دارالافتاء سے عدالت میں شراب نوشی و دیگر برے کاموں کے ثبوت پر گواہان سے متعلق کہا گیا تھا،اس حوالے سے عرض ہے کہ فریق مخالف کو باربار عدالت میں بلانے پر بھی وہ  آئے نہیں تو عدالت نے بیانِ حلفی  لے کر خلع دلوائی، البتہ ان برے کاموں کی مختلف دلائل بھی موجود ہیں۔

 دوسری بات جو مفتیان کرام کی جانب سے کہی گئی وہ خلع نامہ دیکھ کرشوہر کی رضامندی کے اظہار سے متعلق تھی ،اس حوالے سے بھی دو آڈیوز فراہم کی تھیں،جن میں انہوں نے خلع لینے پر رضامندی کا اظہار کیاتھا ،البتہ خلع کے بعد لڑکے کو خلع نامہ ارسال کیا تھا اور اس  حوالے سےاس سے کال پر بات بھی ہوئی ،اس کال کی ریکارڈنگ موجود ہے جس میں اس نے واضح طور پر کہا کہ" بس خلع لے لی تو بات ہی ختم ہو گئی نا ،میں الگ سے ریکارڈنگ(جس میں طلاق کی مکمل تصریح ہو) کیوں بھیجوں؟

 براہِ کرم اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں کہ آیااب خلع ہو گئی یا نہیں، البتہ انفرادی ریکارڈنگ نہ دینے کے اصرار کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو پانچ لاکھ حقِ مہر اور ادھار پیسے جو ڈھائی لاکھ تھے، اس کا مطالبہ نہ کر لیں ۔براہ ِکرم رہنمائی فرمائیں۔

تنقیح : سائل نے بذریعہ واٹسپ بتایا کہ شوہر نے واٹسپ پر یہ میسیج بھیجا ہے۔" میں محمد عادل امین مجھ سے اقرا جمشید خلع لے رہی ہے اور ان کی اس خواہش  کے لئے میں اس خلع پر راضی ہوں۔ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورتِ حال اگر واقعہ کے مطابق ہے تو اس صورت میں  جب  شوہر نے کال پہ بتایا کہ  " بس خلع لے لی تو بات ہی ختم ہو گئی نا ،میں الگ سے ریکارڈنگ(جس میں طلاق کی مکمل تصریح ہو) کیوں بھیجوں؟ اسی طرح جب  شوہر نے واٹسپ پہ میسیج  کر کے  خلع پر مکمل رضامندی  ظاہر کی ،   تو شرعا خلع درست ہوگئی ہے اور ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (6/ 173):

"(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط

حضرة السلطان في هذا العقد."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 439):

"الخلع (هو) لغة الإزالة، وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبولها بلفظ الخلع أو ما في معناه).وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."

محمد جمال ناصر

دار الافتاءجامعہ الرشیدکراچی

25/ربیع الاول/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمال ناصر بن سید احمد خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب