| 82111 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
UK نے “PEC168” کے نام سے ایک آن لائن کمپنی بنائی ہے جو کہ بطورِ ایجنٹ کام کرتی ہے اور باقی حضرات اس میں بطور انویسٹر کام کرتے ہیں،بندہ بھی اس کمپنی کاایک انویسٹر ہے،انویسٹمنٹ کے بعد کام کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کم از کم انویسمنٹ یعنی سو ڈالرز انویسٹ کرنے کے بعد انویسٹر کی کمپنی کی ویب سائٹ پر موجود آڈرز تک رسائی ممکن ہوجاتی ہے اور اپنے ان پیسوں سے وہ ان میں سے کسی چیز کو خرید لیتا ہے،جس کی کمپنی انویسٹرز سے فیس لیتی ہے،جس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔
آرڈرز کی نوعیت اور کیفیت میں انویسٹ شدہ رقم کے مطابق کمی بیشی ہوتی ہے،یعنی انویسٹمنٹ زیادہ ہو تو آرڈرز بھی زیادہ ملتے ہیں اور کم ہو تو آرڈر بھی کم ملتے ہیں۔
بندہ نے سو ڈالرز انویسٹ کئے تھے،جس پر بندہ کو ایک الماری کا آرڈر ملا،بندہ نے کمپنی کے طریقہ کار کے مطابق اسے خریدا،کمپنی نے وئیرہاؤس کو انفارم کیا،ویئر ہاؤس نے الماری خریدار کو ڈلیور کردی،جبکہ انویسٹر رقم کمپنی کو ادا کرتا ہے،پھر کمپنی اصل خریدار کی جانب سے دی گئی قیمت سے مجھے بھی نفع دیتی ہے اور وہ رقم جو میرے انویسمنٹ اکاؤنٹ سے کاٹی جاتی ہے نفع کے ساتھ واپس اکاؤنٹ میں بھیج دیتی ہے،کمپنی اپنا کمیشن بھی رکھتی ہے جس کا ہمیں علم نہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس کمپنی کے ساتھ کام کرنا کیسا ہے؟ اور اس سے حاصل ہونے والے نفع کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عام طور پر اس طرح کی آن لائن ایپس کا حقیقی کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،بلکہ کچھ عرصہ تک لوگوں سے وصول کئے گئے پیسوں میں سے ہی کچھ رقم نفع کے نام پر انہیں دیتی ہیں اور لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد جب اچھی خاصی رقم لوگوں سے جمع کرلینے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو سب کچھ بند کرکے فرار ہوجاتی ہیں،اس لئے اس طرح کی ایپس میں انویسمنٹ کرنےسے احتراز کرنا چاہیے،جس ایپ کے بارے میں آپ کا سوال ہے اس کے متعلق بھی سوشل میڈیا پر اس طرح کی خبریں چل رہی ہیں۔
اگر بالفرض کمپنی کے بتائے گئے طریقہ کار کو حقیقت مان لیا جائے تو بھی شرعی لحاظ سے مذکورہ طریقہ کار کے مطابق کاروبار کرنا جائز نہیں،کیونکہ بیع کی بنیادی شرائط میں سے مبیع کا بیچنے والے کی ملکیت اور قبضے میں ہونا ضروری ہے،جبکہ مذکورہ صورت میں آپ کمپنی کی طرف سے اس کی ویب سائٹ پر موجود جس چیز کو خریدتے ہیں وہ کمپنی کی ملکیت نہیں ہوتی،بلکہ آپ کے خریدنے کے بعد وہ ویئر ہاؤس کو اطلاع دے کر اسے وہ چیز اصل خریدار تک پہنچانے کا آرڈر کردیتی ہے،یعنی ایک تو خود غیر مملوک چیز کو آپ پر فروخت کرتی ہے اور پھر اسی کی بنیاد پر اس چیز کو آپ کی ملکیت سمجھ کر کسٹمر کو فروخت کرتی ہے،حالانکہ وہ چیز ابھی تک نہ آپ کی ملکیت میں آئی ہوتی ہے اور نہ قبضے میں۔
نیز کمپنی کو خریدوفروخت کا وکیل بنانے کی صورت میں بھی یہ صورت شرعا درست نہیں ہوگی،کیونکہ عقود معاوضہ میں ایک ہی شخص عقد کے دونوں اطراف(ایجاب وقبول) کا وکیل نہیں بن سکتا۔
اسی طرح کمپنی کو دلال بھی نہیں بنایا جاسکتا،کیونکہ وہ اصل خریدار اور بیچنے والے کے درمیان صرف واسطے کا کردار نہیں ادا کرتی،بلکہ اصل خریدار سے پیسے بھی خود وصول کرتی ہے اور انویسٹر پر چیز فروخت بھی خود کرتی ہے۔
حوالہ جات
"البحر الرائق " (8/ 122):
"(فصل) وغير الأب، والجد لا يتولى طرفي عقد المعاوضة المالية؛ لأن حقوق العقد ترجع إلى العاقد فيصير الواحد طالبا مطالبا ومستلما ومتسلما وهكذا الحال وكذا الأب، والجد قياسا وهو قول زفر - رحمه الله - ويجوز استحسانا وهو أنه لكمال شفقته قام مقام شخصين وعبارته مقام عبارتين ورأيه مقام رأيين فجعل كأنه باعه منه وهو بالغ وهو يتحمل لحق الأبوة لحقوق العقد نيابة عنه حتى إذا بلغ الصغير كانت العهدة على الصغير وفيما إذا باع ماله لأجنبي فبلغ الصغير كانت العهدة على الأب بطريق التحمل لا بحكم العقد لا يؤدي إلى الاستحالة".
"رد المحتار" (5/ 656):
"(قوله: والسمسار) هو المتوسط بين البائع والمشتري بأجر من غير أن يستأجر".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
27/جمادی الاول1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


