| 82224 | پاکی کے مسائل | حیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان |
سوال
سوال یہ ہے کہ ایک معتادہ عورت ہے جسکو سن بلوغت سے 6 دن حیض آتا ہو، لیکن اس رمضان میں حیض صحیح نہیں آنے پر ڈاکٹر کے نسخے کے مطابق حیض کیلئے گولی استعمال کی ،جس کی وجہ سے ان کی حیض کی مدت 8 دن تک تجاوز کرگئی، پوچھنا یہ ہے کہ 6 دن کے علاوہ باقی ایام حیض کے شمار کئے جائیں گےیا استحاضہ ؟اور اس میں نماز ، روزہ کا کیاحکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
معتادہ عورت کا خون اگر ایام عادت سے بڑھ جائے اور دس دن سے بھی تجاوز کرجائے تو ایسی صورت میں اس کی عادت برقرار رہے گی،یعنی عادت کے دنوں سے اضافی آنے والا خون استحاضہ شمار ہوگا،لیکن اگر دس دن کے اندر اندر رک جائے تو پھر یہ عادت کی تبدیلی شمار ہوگی۔
لہذا مذکورہ صورت میں آٹھ دن پورے حیض کے شمار ہوں گے اور ان دنوں کی نمازوں کی قضا تو لازم نہیں،البتہ روزوں کے قضاء لازم ہے۔
حوالہ جات
"رد المحتار" (1/ 285):
"(قوله: والزائد على أكثره) أي في حق المبتدأة، أما المعتادة فما زاد على عادتها ويجاوز العشرة في الحيض والأربعين في النفاس يكون استحاضة كما أشار إليه بقوله أو على العادة إلخ. أما إذا لم يتجاوز الأكثر فيهما، فهو انتقال للعادة فيهما، فيكون حيضا ونفاسا رحمتي".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
03/جمادی الثانیہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


