| 82184 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
ایسی چیز کوبیچنا جو بذات خود جائز اور حلال ہو (کھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے) ،لیکن کچھ لوگ اسےنشہ آور چیزوں میں ملاوٹ کےطور پر استعمال کرتے ہیں تو کیا میں یہ چیز ان کو بیچ سکتا ہوں اور کیا یہ جائز ہے؟ اور کیا اس سے حاصل ہونے والی رقم حلال ہوگی؟ فائدہ:: اس چیز کو ملانے سے اس نشہ آور چیز کا نشہ کم ہو جاتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جن لوگوں کے بارے میں علم ہو کہ وہ اس چیز کو نشہ آور چیزوں میں شامل کر کے کاروبار کریں گےتوایسی صورت میں اگراس چیزکےملانےسےنشہ آورچیزکےنشہ میں کمی اس کےقابل استعمال بنانےکےدرجہ میں ہو بایں طور کہ اس چیز کے ملانے سے ہی اس نشہ آورچیز کا انسانوں کےلیےاستعمال ممکن بن جاتا ہو اور اس کے بغیر وہ چیز انسانی استعمال کے قابل نہ ہوتوپھراگر یہ چیزجوں کےتوں بغیرکسی بڑی تبدیلی کےاس نشہ آورچیزمیں شامل کی جاتی ہوتویہ معاملہ اوراس کی کمائی مکروہ تحریمی ہےاور ایسی کمائی یعنی منافع بلا نیت ثواب صدقہ کرناضروری ہےاوراگراس کےملانے سےنشہ میں کمی عام معمول کےدرجہ سےکم ہوتی ہویاملاوٹ سےقبل اس چیزمیں اتنی تبدیلی لائی جاتی ہوکہ اس کےنام یاکم ازکم بنیادی صفات وخواص تبدیل ہوجاتےہوں توپھراس چیز کابیچنا مکروہ تنزیہی ہےاورایسی کمائی اگرچہ حلال ہے،لیکن ناپسندیدہ ہے۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۴جمادی الثانی ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


