| 82259 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میں نے اپنی پسند کی دوسری شادی خاندان سے باہر کی تھی،جس کی وجہ سے لڑکی کے اس کے گھر والوں سے تعلقات خراب ہو گئے تھے اور میری والدہ بھی مجھ سے ناراض ہو گئی تھی، دوسال بعد جیسے ہی لڑکی کے اپنے گھر والوں سے تعلقات اچھے ہوئے تو وہ تین چار دن کے لئے اپنے گھر والوں سے ملنے کےلئے اپنے گھر گئی۔
یہاں میری والدہ میرے پیچھے لگ گئی کے اِس لڑکی کو چھوڑدو،یہاں تک کہ میری والدہ لوگوں نے طلاق کے پیپر بنا کر مجھے پریشان کرنا شروع کر دیا اور مجھے کہنے لگے: ان پیپرز پر دستخط کرو،یہ سلسلہ ایک ماہ تک اسی طرح چلتا رہا اور میرے گھر والوں کی اسی حرکت کی وجہ سے میں نے اپنے گھر آنا چھوڑ دیا تھا، میرے گھر والوں نے میری غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طلاق کے پیپر پر خود سے جعلی دستخط کرکے جعلی گواہ بنا کر میری بیوی کے گھر بھجوا دیئے اور مجھے اُس وقت پتہ چلا جب میری بیوی نے مجھے کال کر کے باتیں سنائیں،مجھ پر غصّہ کیا اور کال کاٹ کر اپنا نمبر بند کر دیا اور میری کوئی بات نہیں سنی،میری بیوی کے گھر والے مجھ پر بہت غصّہ تھے جس کی وجہ سے میں نے ان کے گھر جانا مناسب نہیں سمجھا،کیونکہ ان کی نظر میں میں بہت برا بن گیا تھا،مہربانی فرما کر مجھے صرف یہ بتایا جائے کہ کیا اس طرح سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ میرے اس سوال کا جواب تحریری دیا جائے،تا کہ میں اپنی بیوی کے گھر جا کر بات کر سکوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیوی کو طلاق دینے کا اختیار شوہر کو حاصل ہے،شوہر کے علاوہ کسی اور کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے،اس لئے مذکورہ صورت میں اگر آپ نے اس طلاق نامے پر خود دستخط نہیں کئے اور نہ گھر والوں کو طلاق دینے کا وکیل بنایا تو گھر والوں کے از خود جعلی طلاق نامہ بنوانے سے آپ کی بیوی کو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور وہ بدستور آپ کے نکاح میں ہے۔
حوالہ جات
"رد المحتار" (3/ 230):
"(قوله: وأهله زوج عاقل إلخ) احترز بالزوج عن سيد العبد ووالده الصغير، وبالعاقل ولو حكما عن المجنون والمعتوه والمدهوش والمبرسم والمغمى عليه، بخلاف السكران مضطرا أو مكرها، وبالبالغ عن الصبي ولو مراهقا، وبالمستيقظ عن النائم. وأفاد أنه لا يشترط كونه مسلما صحيحا طائعا عامدا فيقع طلاق العبد والسكران بسبب محظور والكافر والمريض والمكره والهازل والمخطئ كما سيأتي".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
6/جمادی الثانیہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


