| 82264 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
یافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
گذارش ہے کہ سنہ 1955 یا اس سے تقریبا دو سال پہلے ہمارے دادا جان نے ماڈل کالونی کراچی میں مکان لیا تھا ان کے چار بیٹے اورچاربیٹیاں تھیں ۔سنہ 1976 میں دوسرے نمبر کے بیٹے نے مکان کے اوپر پہلی منزل پر 2 کمرے اور واش روم بنوایا اس وقت سب بہن ،بھائی اور دادی حیات تھیں دادا کا کا انتقال سنہ 1969 میں ہو چکا تھا۔مکان کی پہلی منزل کی تعمیر کے وقت جس بھائی نے خرچہ کیا اس نے کسی بھی بہن بھائی سے یہ نہیں کہا کہ جب مکان فروخت ہو گا تو میں یہ رقم لوں گا اور آپ سب بہن بھائیوں پریہ رقم قرضہ ہے (جس کو آج وہ 15 لاکھ کہہ رہے ہیں )
یا در ہے کہ سب بہن بھائی اس میں ساتھ رہتے تھے اور سب نے مل جل کر مکان کی مکانیت کو قائم رکھنے کے لئے ہمیشہ خر چہ کیا اور اپنی اپنی حیثیت میں رہتے ہوے اپنا کردار ادا کیا ۔اب اس وقت ہمارے دادا کی اولاد میں سے 2 بھائی اور 3 بہنیں زندہ ہیں ۔
(1) جس بھائی نے پہلی منزل کی تعمیر کی وہ اب مطالبہ کر رہا ہے کہ مکان کوفروخت کرو اور میں نے جو رقم اوپر کی منزل پر خرچ کی ہے وہ رقم مجھے دو ۔
(2)مذکور بھائی کے علاوہ ایک بھائی اور تین بہنیں حیات ہیں ۔
( 3 ) جن میں سے ایک بہن جو سب سے چھوٹی ہیں انہوں نے اپنی رائے دینے سے انکار کر دیا ہےاور فیصلہ دیگر دو بہنوں اورایک بھائی پر چھوڑ دیا ہے ۔
( 4 ) جبکہ باقی کی 2 بہنوں اور ایک بھائی نے اس بھائی کے دعوے اور رقم کے مطالبے کو غلط بیانی قرار دیا ہے ۔
انکار کر نے والے بھائی اور بہنوں کے نام درج ذیل ہیں ۔
(1) سید تصنيف الحسن 856 2832 - 0336 انکی اہلیہ نمبر اٹھائیں گی۔
۲۔ سید تظمیم فاطمہ 03323582962 انکے شوہر نمبر اٹھائیں گے۔
(3) سیدہ تقویم فاطمہ 3316031-0334 انکے لے پالک بھائی نمبر اٹھائیں گے۔
آنجناب سے گذارش ہے کہ دین کی روشنی میں اس دعوی کی وضاحت فرمادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس بھائی نےمشترکہ مکان کےاوپردوکمرے اورواش روم بنوایاہےاگراس نے وہ تعمیرصرف اپنے لیےکی ہواوردیگربہن بھائیوں کواس میں شریک کرنامقصود نہ ہوتوپھراس کا دعوی درست ہے اوپرکی پوری تعمیر صرف اس کی ہوگی جبکہ نیچے کا مکان اس کے اوردیگرورثہ کے درمیان مشترک ہوگا، اب جب ورثہ اس مکان کو فروخت کرکے قیمت تقسیم کریں گےتوپہلے تعمیرکنندہ بھائی کواوپر والے کمروں اورواش روم کی تعمیرکی قیمت دی جائے گی اورپھرباقی قیمت مکان میں مشترک ورثہ کے درمیان ملکیت کے تناسب سے تقسیم ہوگی۔
اوراگرتعمیرکنندہ بھائی نے مشترکہ مکان پر تعمیراپنے بھائیوں اوربہنوں کےساتھ اشتراک کی نیت سے کی تھی توپھروہ الگ سےتعمیر کی قیمت کا مطالبہ نہیں کرسکتا،بلکہ یہ پورا مکان اوپر نیچےفروخت کرکے سب ورثہ میں ان کے شرعی حصوں کے حساب سے تقسیم ہوگا۔
حوالہ جات
وفی العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 81)
(سئل) في رجل بنى بماله لنفسه قصرا في دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه وعن ورثة غيره فهل يكون القصر لبانيه ويكون كالمستعير؟(الجواب) : نعم كما صرح بذلك في حاشية الأشباه من الوقف عند قوله كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ ومسألة العمارة كثيرة ذكرها في الفصول العمادية والفصولين وغيرها وعبارة المحشي بعد قوله ويكون كالمستعير فيكلف قلعه متى شاء.
وفی الأشباه والنظائر - حنفي - (ج 1 / ص 219)
كل من بنى في أرض غيره بأمره ة فالبناء لمالكها.
فی رد المحتار(6/747سعید)
کل من بنی فی دار غیرہ بامرہ فالبناء لآمرہ ولولنفسہ بلاأمرہ فھولہ ولہ رفعہ.
في الدر المختار:(٦/٢٦٨)
(بنى أحدهما) أي أحد الشريكين (بغير إذن الآخر) في عقار مشترك بينهما (فطلب شريكه رفع بنائه قسم) العقار (فإن وقع) البناء (في نصيب الباني فبها) ونعمت (وإلا هدم) البناء، وحكم الغرس كذلك بزازية.
وفي رد المحتار تحته:
(قوله بغير إذن الآخر) وكذا لو بإذنه لنفسه لأنه مستعير لحصة الآخر، وللمعير الرجوع متى شاء. أما لو بإذنه للشركة يرجع بحصته عليه بلا شبهة رملي على الأشباه (قوله وإلا هدم البناء) أو أرضاه بدفع قيمته ط عن الهندية.أقول: وفي فتاوى قارئ الهداية: وإن وقع البناء في نصيب الشريك قلع وضمن ما نقصت الأرض بذلك اهـ
وفي تنقيح الحامدية (١/١٠٠)
(سُئِلَ) فِي دَارٍ مُشْتَرَكَةٍ بَيْنَ جَمَاعَةٍ بَنَى فِيهَا بَعْضُهُمْ بِنَاءً لِأَنْفُسِهِمْ بِآلَاتٍ هِيَ لَهُمْ بِدُونِ إذْنِ الْبَاقِينَ وَيُرِيدُ بَقِيَّةُ الشُّرَكَاءِ قِسْمَةَ نَصِيبِهِمْ مِنْ الدَّارِ الْمَذْكُورَةِ وَهِيَ قَابِلَةٌ لِلْقِسْمَةِ فَهَلْ لَهُمْ ذَلِكَ وَمَا حُكْمُ الْبِنَاءِ؟(الْجَوَابُ) : حَيْثُ كَانَتْ قَابِلَةً لِلْقِسْمَةِ وَيَنْتَفِعُ كُلٌّ بِنَصِيبِهِ بَعْدَ الْقِسْمَةِ فَلِبَقِيَّةِ الشُّرَكَاءِ ذَلِكَ ثُمَّ الْبِنَاءُ حَيْثُ كَانَ بِدُونِ إذْنِهِمْ إنْ وَقَعَ فِي نَصِيبِ الْبَانِينَ بَعْدَ قِسْمَةِ الدَّارِ فَبِهَا وَنِعْمَت وَإِلَّا هُدِمَ الْبِنَاءُ.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
9/6/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


