03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
محلے کی مسجد میں امامِ مسجد کے علاوہ کسی اور سے نکاح پڑھوانا
82330نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

کیا لڑکا اپنی پسند کا نکاح خواں لے کر لڑکی والوں کے محلے کی مسجد میں نکاح پڑھواسکتا ہے؟

اگر لڑکی والوں کے محلے کی مسجد کے امام جو کہ خود بھی نکاح خواں ہیں یہ کہہ کر اجازت نہ دیں کہ شرعی مسئلہ ہے تو کیا وہ صحیح کہہ رہے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی لحاظ سے اس میں کوئی حرج نہیں،البتہ یہ انتظامی نوعیت کا مسئلہ ہوسکتا ہے کہ مسجد انتظامیہ کی جانب سے عموما امام مسجد کے علاوہ کسی اور کو مسجد میں اس طرح کے کاموں کی اجازت نہیں ہوتی،لہذا مذکورہ صورت میں بہتر یہ ہے کہ اس مسجد کے علاوہ کسی اور مقام پر تقریب ِنکاح کا انعقاد کرلیا جائے۔

حوالہ جات

.............

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

10/جمادی الثانیہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب