| 82433 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
میرا یوٹیوب چینل ہے جہاں میں لوگوں کو کرکٹ سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہوں۔یوٹیوب میری ویڈیوز پر اشتہارات چلاتا ہے اور ان کے پیسے مجھے ادا کرتاہے، ان میں کچھ اشتہارات جائز اور کچھ ناجائز چیزوں کےہوتے ہیں ۔تاہم یوٹیوب ہمیں یہ اختیار دیتا ہے کہ آپ نا جائز اشتہارات کو بند کر سکتے ہیں۔ تو کیا یوٹیوب سے کمائے گئے پیسے میرے لیے جائز ہوں گے یا نہیں؟ جزاک اللہ خیرا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر یوٹیوب ویڈیوز پر اشتہارات تحریری وتصویری صورت میں یا ویڈیو کی شکل میں ہوں،تو اشتہارات اگر کسی جائز کاروبارکے ہو ں،اور اس میں گوگل ایڈ سینس ،یوٹیوب اور چینل کے مالک کے درمیان طے شدہ معاہدہ ؐکی پاسداری ہو ، اوراشتہارات میں ان کیٹگریز کوحتی الامکان فلٹر کیا گیا ہو جو ناجائز مواد پرمشتمل ہو ں یا کسی ناجائز کاروبار کے ہو ں،اسی طرح اگر کسی جائز پراڈکٹ کے اشتہار میں گوگل کے طرف سے ناجائز موادمثلا فحش تصاویر، موسیقی وغیرہ شامل کردی جائیں تو اس میں چینل کے مالک کی اجازت یا رضامندی شامل نہ ہو ،البتہ ناجائز مواد پر مشتمل اشتہارات کی ایڈزریویو سینٹر میں جائزہ لےکراس کی آمدن کو صدقہ کردیں ۔
اشتہارات کی کیٹگریز کو فلٹر کرنے کے بعد بھی اگر گوگل ناجائزمواد پر مشتمل اشتہارات لگاتا ہو تو گناہ سے بچنے کی خاطرگوگل سے بذریعہ ای میل یا کسی اور طریقہ سے صراحتا اس چیزوں کے روکنے کا کہا جائے ،اگر وہ ان کودور نہیں کرتا تو یوٹیوب چینل کے لیبل یا ویڈیوز میں نمایا ں طور پر تحریر کیا جائے کہ اشتہار اگر میوزک پر مشتمل ہے تو اس کی آواز بند کردی جائے یا اگر فحش تصاویروغیرہ ہو تو اس سے نظر پھیردی جائے تو اس صورت میں چینل کے مالک کو گناہ نہ ہوگا اوراگر درج بالا امور کی رعایت کی توکمآئی بھی جائز ہوگی، تاہم گوگل کےطرف سے شامل شدہ ناجائزمواد پرمشتمل اشتہارات کی ایڈزریویو سینٹر میں جائزہ لےکراس کی آمدن کو صدقہ کردیں ۔
اگر چہ ان تمام پابندیوں کے بعد اس کمائی کا جواز ہوجائے گا، لیکن اس کے بجائے کوئی ایسا کاروبار کیا جائےجس میں ناجائز اورحرام کا شبہ نہ ہو ۔
حوالہ جات
ﵟوَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ أَن صَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ أَن تَعۡتَدُواْۘ وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٢ ﵞ [المائدة: 2]
قال ابن عابدین رحمہ اللہ : (قوله :وجاز إجارة بيت إلخ) هذا عنده أيضا؛ لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبيته عنه، فصار كبيع الجارية ممن لا يستبرئها أو يأتيها من دبر وبيع الغلام من لوطي. والدليل عليه أنه لو آجره للسكنى جاز وهو لا بد له من عبادته فيه . زيلعي وعيني ومثله في النهاية والكفاية. (رد المحتار:6/ 392)
وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأسً؛ لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية:4/ 450)
ولو كان المستأجر مسلما فظهر منه فسق في الدار أو دعارة أو كان يجمع فيها على الشرب ،منعه رب الدار من ذلك كله ،لا لملكه الدار بل على سبيل النهي عن المنكر ؛فإنه فرض على كل مسلم صاحب الدار وغيره فيه سواء، وليس لرب الدار أن يخرجه من الدار من أجل ذلك مسلما كان أو ذميا؛ لأن عقد الإجارة لازم لا يفسخ إلا بعذر، والعذر ضرر يزول بفسخ الإجارة وهذا ليس من تلك الجملة، فلا تفسخ الإجارة لأجله.
(المبسوط، للسرخسي:15/ 135)
رفیع اللہ
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
13جمادی الاخری 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رفیع اللہ غزنوی بن عبدالبصیر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


