| 82439 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
اگر کپڑے یا چادر پر کچھ ناپاکی(منی)لگی ہو اور گھر والوں نے اسے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے واشنگ مشین میں پاک کپڑوں کے ساتھ ملاکر دھولیا اور مشین سے نکالنے کے بعد کھنگال بھی دیا اور کپڑے پر ناپاکی کا کوئی اثر باقی نہیں رہا تو ان تمام کپڑوں کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر ناپاک کپڑوں کو پاک کپڑوں کے ساتھ ملاکر واشنگ مشین یا ٹب وغیرہ میں دھویا تو اس سے وہ پاک کپڑے بھی ناپاک ہوجائیں گے، ہاں اگر ہر کپڑے کو مشین سے نکالنے کے بعد تین مرتبہ پاک پانی میں اچھی طرح کھنگال کر ہر بار نچوڑدیاجا ئےیا کم از کم ایک ساتھ دھونے کے بعد ان پر اتنا صاف پانی بہایا جائے کہ کپڑوں پر ناپاکی کا کوئی اثر باقی نہ رہے اور غالب گمان ہوجائے کہ کپڑے پاک ہوگئے ہیں توبھی سارے کپڑے پاک ہوجائیں گے ۔
آٹومیٹک واشنگ مشین کی سیٹنگ اگر ایسی رکھی جائے کہ پاک وناپاک کپڑے تین یا اس سے زیادہ مرتبہ دھلیں اور ہر مرتبہ اس میں پاک وصاف پانی استعما ل ہوکر کپڑوں سے مشین کے ذریعے پانی بھی نچڑجائے تواس سے بھی کپڑے پا ک ہوجائیں گے۔
حوالہ جات
(ويطهر محل النجاسة غير المرئية بغسلها ثلاثاوجوبا) وسبعا مع الترتيب ندبا في نجاسة الكلب خروجا من الخلاف (والعصر كل مرة) تقديرا لغلبة.يعني اشتراط الغسل والعصر ثلاثا إنما هو إذا غمسه في إجانة أما إذا غمسه في ماء جار حتى جرى عليه الماء أو صب عليه ماء كثيرا بحيث يخرج ما أصابه من الماء ويخلفه غيره ثلاثا فقد طهر مطلقا بلا اشتراط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار والمعتبر فيه غلبة الظن هو الصحيح .
(حاشية الطحطاوي ،ص:161،162)
(و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد به يفتى.(وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثا) أو سبعا (فيما ينعصر) مبالغا بحيث لا يقطر....وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار.....أقول: لكن قد علمت أن المعتبر في تطهير النجاسة المرئية زوال عينها ولو بغسلة واحدة ولو في إجانة كما مر، فلا يشترط فيها تثليث غسل ولا عصر، وأن المعتبر غلبة الظن في تطهير غير المرئية بلا عدد على المفتى به أو مع شرط التثليث على ما مر. (رد المحتار ط الحلبي:1/ 331،333(
رفیع اللہ
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
18/ جمادی الأخری1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رفیع اللہ غزنوی بن عبدالبصیر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


