| 82449 | طلاق کے احکام | مدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم |
سوال
میں نے ایک لڑکی سے شادی کی ہم دونوں دس سال سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ ہم اچھی زندگی بسر کر رہے تھے، آٹھ مہینے بعد ہمیں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائیاں شروع ہو گئی بے مقصد باتوں پر۔ ہم ایک دوسرے سے ہفتوں باتیں نہیں کرتے تھے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو بہت برے لگنے لگ گئے اور مجھے کبھی کبھار بیڈ روم سے عجیب عجیب سی آوازیں بھی آتی تھیں اور میری بیوی مجھے شکایت کرتی تھی کہ اُس کو ڈراونے اور خوفناک خواب آتے ہیں۔ دونوں ہم دونوں کی ازدواجی زندگی بھی خراب ہو گئی تھی جو کہ پہلے بالکل ٹھیک تھی۔ ساتھ ساتھ مجھے ذہن میں آوازیں آتی تھیں کہ وکیل کے پاس جاؤ اور اس کو فارغ کردو۔ میں وکیل کے پاس اپنے بھائی کے ساتھ گیا اور میں نے پیپرز پر سائن کر کے اس کو بھجوا دیا ،مگر مجھے کوئی ہوش و حواس اس ٹائم نہیں تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور میں اپنی زندگی اور گھر خود تباہ کر رہا ہوں۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں نے اپنے منہ سے طلاق کا ایک لفظ نہیں نکالا صرف پیپر سائن کر کے بھجوا دیا۔ ڈائورس پیپرز سائن کرنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میں اور میری بیوی پر سحر (جادو) ہوا تھا جو ہماری شادی توڑنے کے لیے کسی نے کروایا تھا۔ میں ایک سنی مسلمان ہوں ۔ میں اللہ، قران اور اس کے آخری رسول محمد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہوں اور میرا کوئی طلاق سے دینا لینا نہیں تھا ،مگر بغیر سوچے سمجھے مجھ سے یہ کام ہو گیا اور میرا گھر ٹوٹ چکا ہے ۔ ہم دونوں بے قصور ہیں۔ میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ سحر (جادو) کی حالت میں دی ہوئی طلاق کا کیا حکم ہے؟ بہت شکریہ اللہ اپ کو اس کا اجر دے۔آمین۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصولی طور پرسحر زدہ شخص کی طلاق مکرہ کے طلاق کے حکم میں ہے،اور مکرہ کی زبانی طلاق واقع ہوتی ہے، البتہ مکرہ کی تحریری طلاق واقع نہیں ہوتی،لہذا اگر واقعۃ جادو کی وجہ سے آپ کی حالت اس قدر خراب ہوئی تھی کہ آپ کو صحیح اور غلط بات میں کی تمییز کی صلاحیت ختم ہوگئی تھی اوربالخصوص جب آپ کی یہ حالت کم از کم آپ کے حلقہ احباب میں معروف ہو،نیزدستخط کے وقت بھی یہ حالت باقی تھی تو ایسی صورت میں آ پ کی یہ تحریری طلاق واقع نہیں ہوئی، ورنہ تحریری طلاق واقع ہوگئی ہے۔
حوالہ جات
رد المحتار - (ج 10 / ص 458):
فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا ، كذا في الخانية ،
رد المحتار - (ج 10 / ص 488):
وقال في الخيرية : غلط من فسره هنا بالتحير ، إذ لا يلزم من التحير وهو التردد في الأمر ذهاب العقل .
وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش ، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع ، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان .ا هـ .
۔۔۔۔۔۔۔فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته ، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته : فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۰جمادی الثانیۃ ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


